صحیح مسلم حدیث ۳۹۵ - امت کا حق پر قائم گروہ
حق پر قائم گروہ کی حدیث اور نزول عیسیٰ علیہ السلام
صحیح مسلم : ۳۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۵
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ، ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : " فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلام ، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ : تَعَالَ صَلِّ لَنَا ، فَيَقُولُ : لَا ، إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ ، تَكْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الأُمَّةَ .
جابر بن عبداللہ روایت:
میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ہمیشہ ایک گروہ میری امت کا لڑتا رہے گا (کافروں اور مخالفوں سے) حق پر قیامت کے دن تک وہ غالب رہے گا۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے اور اس گروہ کا امام کہے گا، آیئے نماز پڑھایئے (عیسیٰ علیہ السلام سے کہے گا) وہ کہیں گے نہیں، تم میں سے ایک دوسروں پر حاکم رہیں۔ یہ وہ بزرگی ہے جو اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا اس امت کو۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر لڑتا رہے گا اور قیامت کے دن تک غالب رہے گا۔ پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے۔ اس گروہ کا امیر ان سے کہے گا کہ آیئے نماز پڑھایئے، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے نہیں، تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کی عزت ہے۔ اس حدیث کا موضوع حق پر قائم رہنے والا گروہ اور امت کی بزرگی ہے۔ یہاں بات صرف اسی گروہ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول، نماز کی پیشکش اور ان کے جواب تک محدود ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امت میں حق پر قائم رہنے والے لوگ رہیں گے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں امت کے ایک گروہ کے حق پر قائم رہنے کا ذکر ہے۔
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت اس گروہ کا امیر موجود ہو گا۔
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نماز نہ پڑھانا اس حدیث میں امت کی عزت کے طور پر بیان ہوا ہے۔
