صحیح مسلم حدیث ۳۹۵۳ - چاندی کے بدلے کرایہ
چاندی پر زمین کرایہ: غیر یقینی پیداوار سے بچاؤ
صحیح مسلم : ۳۹۵۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۵۳
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ : كُنَّا أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا ، قَالَ : " كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَنَا هَذِهِ وَلَهُمْ هَذِهِ ، فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ ، وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ ، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ، وَأَمَّا الْوَرِقُ ، فَلَمْ يَنْهَنَا " ،
رافع بن خدیج روایت:
تمام انصار میں ہمارے یہاں محاقلہ زیادہ تھا ہم زمین کو کرایہ پر دیتے یہ کہہ کر کہ یہاں کی پیداوار ہم لیں گے اور تم یہاں کی لینا پھر کبھی یہاں اگتا وہاں نہ اگتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہم کو اس سے لیکن چاندی کے بدل کرایہ پر دینا تو اس سے منع نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۵۳ کا خلاصہ
اس روایت میں حنظلہ زرقی نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انصار میں ان کے یہاں محاقلہ زیادہ تھا۔ وہ زمین کرایہ پر دیتے اور کہتے کہ اس جگہ کی پیداوار ہماری ہو گی اور اس جگہ کی تمہاری۔ پھر کبھی ایک جگہ پیداوار دیتی اور دوسری نہیں دیتی۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اس صورت سے منع فرمایا۔ لیکن رافع رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا کہ چاندی کے بدل کرایہ پر دینے سے منع نہیں کیا گیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع زمین کرایہ حدیث میں غیر یقینی پیداوار اور معین کرایہ کے درمیان فرق ہے۔ عام زبان میں بات یہ ہے کہ ایسا معاملہ جس میں ایک فریق کا حصہ بچ جائے اور دوسرے کا ضائع ہو جائے، متن کے مطابق ممنوع صورت میں آیا۔ چاندی کے بدلے کرایہ کو اس روایت نے الگ رکھا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پیداوار کی جگہیں بانٹ کر کرایہ مقرر کرنے میں نقصان کا خطرہ تھا۔
- روایت میں چاندی کے بدلے کرایہ سے منع نہ کرنے کا ذکر ہے۔
- محاقلہ کی وہ صورت بیان ہوئی جس میں ایک جگہ اگتی اور دوسری نہ اگتی۔
