صحیح مسلم حدیث ۳۹۵۸ - مخابرہ اور زمین دینا
مخابرہ کی حدیث: بھائی کو زمین دینا بہتر ہے
صحیح مسلم : ۳۹۵۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۵۸
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّهُ كَانَ يُخَابِرُ ، قَالَ عَمْرٌو : فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ : لَوْ تَرَكْتَ هَذِهِ الْمُخَابَرَةَ ، فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ ، فَقَالَ : أَيْ عَمْرُو ، أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ بِذَلِكَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا ، إِنَّمَا قَالَ : " يَمْنَحُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ ، مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا " ،
عمرو اور ابن طاؤس روایت:
طاؤس مخابرہ کرتے تھے۔ عمرو نے کہا: اے ابا عبدالرحمٰن (یہ کنیت ہے طاؤس کی) بہتر ہے اگر تم چھوڑ دو مخابرہ کو کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا مخابرہ سے، طاؤس نے کہا: اے عمرو! مجھ سے بیان کیا اس شخص نے جو صحابہ میں زیادہ جاننے والا تھا۔ یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع نہیں کیا بلکہ یوں فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مفت زمین دے تو بہتر ہے کرایہ لے کر دینے سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۹۵۸ کا خلاصہ
اس روایت میں طاؤس کے بارے میں آیا ہے کہ وہ مخابرہ کرتے تھے۔ عمرو نے کہا کہ بہتر ہے آپ مخابرہ چھوڑ دیں، کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا۔ طاؤس نے جواب دیا کہ صحابہ میں زیادہ جاننے والے، یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما، نے انہیں بتایا کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے مخابرہ سے منع نہیں کیا، بلکہ فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مفت زمین دے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس پر مقرر کرایہ لے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ بھائی کے ساتھ آسانی اور احسان کو پسندیدہ بتایا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کسی مسئلے میں بات سن کر اہل علم صحابی کی روایت سے وضاحت لی گئی۔ سرچ میں “مخابرہ کی حدیث” اور “زمین مفت دینے کی حدیث” اسی مضمون کے قریب ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں بھائی کو مفت زمین دینا مقرر کرایہ لینے سے بہتر بتایا گیا۔
- طاؤس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے مسئلہ واضح کیا۔
- لوگوں کی عام بات کے بجائے معتبر روایت کو دیکھا گیا۔
