صحیح مسلم حدیث ۳۹۶۰ - بھائی کو زمین دینا بہتر
محاقلہ کی حدیث: بھائی کو زمین دینا کرایہ سے بہتر
صحیح مسلم : ۳۹۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۶۰
وحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ عبدَ : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ مَعْلُومٍ " ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هُوَ الْحَقْلُ ، وَهُوَ بِلِسَانِ الْأَنْصَارِ : الْمُحَاقَلَةُ .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“”اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین مفت دے دے تو بہتر ہے کہ اس سے کرایہ لے لے اتنا اتنا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ حقل ہے اور حقل کہتے ہیں انصار کی زبان میں محاقلہ کو (اور محاقلہ کے معنی اوپر گزر چکے)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۶۰ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین مفت دے دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس پر کوئی معلوم کرایہ لے۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ اسے حقل کہا جاتا ہے، اور انصار کی زبان میں حقل کو محاقلہ کہا جاتا ہے۔ اس حدیث کا موضوع زمین مفت دینے کی حدیث، محاقلہ اور بھائی کے ساتھ نرمی ہے۔ یہاں اصل زور اس بات پر ہے کہ آدمی اپنے بھائی کو فائدہ دے، صرف کرایہ لینے کو مقصد نہ بنائے۔ البتہ متن میں تمام فقہی صورتوں کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے شرح اسی جملے تک رہے گی: بھائی کو زمین دے دینا، معلوم کرایہ لینے سے بہتر بتایا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اپنے بھائی کو زمین دینا روایت میں معلوم کرایہ لینے سے بہتر بتایا گیا۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حقل اور محاقلہ کے لفظ کی وضاحت کی۔
- زرعی معاملے میں بھائی کے لیے آسانی پیدا کرنا پسندیدہ انداز کے طور پر آیا ہے۔
