صحیح مسلم حدیث ۳۹۷۳ - مسلمان کا لگایا ہوا درخت
مسلمان کا لگایا ہوا درخت: پرندہ، انسان یا جانور کھائے تو صدقہ
صحیح مسلم : ۳۹۷۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۷۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا ، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا ، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ ، أَوْ إِنْسَانٌ ، أَوْ بَهِيمَةٌ ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں گئے ام مبشر کے جو انصار میں سے ایک عورت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس نے بویا ان کھجور کے درختوں کو مسلمان نے یا کافر نے؟“ لوگوں نے کہا: مسلمان نے؟ اخیر حدیث تک (جیسے اوپر گزرا)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۷۳ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مسلمان درخت لگائے یا کھیتی کرے، پھر اس میں سے پرندہ، انسان یا جانور کھائے، تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے۔ یہ حدیث درخت لگانے کی حدیث اور شجرکاری کا ثواب کے عنوان سے بہت اہم ہے۔ اس میں ایک عام مسلمان کی روزمرہ محنت کو نیکی سے جوڑا گیا ہے۔ کھیت لگانا یا درخت لگانا دنیا کا کام لگتا ہے، مگر جب اس سے مخلوق فائدہ اٹھاتی ہے تو حدیث کے مطابق وہ صدقہ بن جاتا ہے۔ متن میں فائدہ اٹھانے والوں میں پرندہ، انسان اور بہیمہ یعنی جانور کا ذکر ہے، اس لیے بات بہت وسیع مگر اسی متن تک محدود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کا درخت یا کھیت دوسروں کے لیے فائدہ بن سکتا ہے۔
- پرندہ، انسان یا جانور کھائے تو اسے صدقہ کہا گیا ہے۔
- روزمرہ کی زرعی محنت بھی نیکی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
