صحیح مسلم حدیث ۳۹۷۴ - ام مبشر کے باغ کی روایت
ام مبشر کے باغ کی حدیث: مسلمان کا درخت اور صدقہ
صحیح مسلم : ۳۹۷۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۷۴
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِأُمِّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ ، أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ؟ " ، قَالُوا : مُسْلِمٌ ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا مگر سند اور ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۷۴ کا خلاصہ
اس روایت میں بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام مبشر رضی اللہ عنہا کے کھجور کے باغ میں داخل ہوئے، جو انصار میں سے ایک خاتون تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کھجوریں کس نے لگائیں، مسلمان نے یا کافر نے؟ لوگوں نے کہا کہ مسلمان نے۔ پھر حدیث کا مضمون پچھلی روایات جیسا ہے، یعنی مسلمان کے لگائے ہوئے درخت سے کوئی کھائے تو اس کے لیے صدقہ ہے۔ یہ روایت شجرکاری کی حدیث کو ایک واقعے کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ اس میں اصل توجہ اس بات پر ہے کہ مسلمان کی لگائی ہوئی کھجور یا درخت جب مخلوق کے کام آئے تو اس میں ثواب کا پہلو ہے۔ چونکہ متن میں کہا گیا کہ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا، اس لیے وضاحت بھی اسی مضمون تک رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ام مبشر رضی اللہ عنہا کے باغ میں کھجور کے درختوں کا ذکر ہے۔
- مسلمان کے لگائے درخت سے فائدہ ہو تو صدقہ کا مضمون بیان ہوا ہے۔
- یہ روایت پچھلی شجرکاری والی روایات کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔
