صحیح مسلم حدیث ۳۹۷۱ - قیامت تک درخت کا صدقہ
قیامت تک صدقہ: مسلمان کے لگائے ہوئے درخت کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۹۷۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۷۱
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ مَعْبَدٍ حَائِطًا ، فَقَالَ : " يَا أُمَّ مَعْبَدٍ ، مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ؟ " ، فَقَالَتْ : بَلْ مُسْلِمٌ ، قَالَ : " فَلَا يَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا ، فَيَأْكُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ ، وَلَا دَابَّةٌ ، وَلَا طَيْرٌ ، إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة " .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام معبد کے باغ میں گئے اور فرمایا: ”اے ام معبد! یہ درخت کھجور کے کس نے لگائے؟ مسلمان نے یا کافر نے؟“ وہ بولیں مسلمان نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر مسلمان تو کوئی درخت لگائے اس میں سے کوئی آدمی یا چوپایہ یا پرندہ کچھ کھائے تو اس کے صدقے کا ثواب ملے گا قیامت کے دن تک۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۹۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام معبد رضی اللہ عنہا کے باغ میں تشریف لے گئے اور پوچھا کہ یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے، مسلمان نے یا کافر نے؟ جب انہوں نے کہا کہ مسلمان نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کوئی درخت لگائے، پھر اس میں سے کوئی آدمی، چوپایہ یا پرندہ کھائے، تو قیامت کے دن تک اس کے لیے صدقہ ہے۔ یہ روایت درخت لگانے کی حدیث میں خاص طور پر اس جملے کی وجہ سے بہت مشہور ہے کہ اس کا صدقہ قیامت تک جاری بتایا گیا ہے۔ متن میں انسان، جانور اور پرندے تینوں کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ درخت کا فائدہ جتنا پھیلتا ہے، حدیث کے الفاظ کے مطابق لگانے والے کے لیے صدقہ کا سبب بنتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کے لگائے درخت سے انسان، چوپایہ یا پرندہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
- حدیث میں ایسے فائدے کو قیامت تک صدقہ کہا گیا ہے۔
- کھجور کے باغ کے واقعے میں شجرکاری کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
