صحیح مسلم حدیث ۳۹۷۰ - درخت اور کھیت سے اجر

درخت یا کھیت لگانے کا اجر: پرندہ، درندہ یا کوئی بھی کھائے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۷۰

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَغْرِسُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ غَرْسًا ، وَلَا زَرْعًا ، فَيَأْكُلَ مِنْهُ سَبُعٌ ، أَوْ طَائِرٌ ، أَوْ شَيْءٌ ، إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ " ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ : طَائِرٌ شَيْءٌ .

جابر بن عبداللہ روایت:

میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ فرماتے تھے: ”جو مسلمان درخت لگائے یا کھیت لگائے پھر اس میں سے کوئی درندہ یا پرندہ یا کوئی اور کھائے تو اس کو اجر ملے گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۹۷۰ کا خلاصہ

یہ حدیث درخت لگانے اور کھیت لگانے کے اجر کو بہت صاف الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ کوئی مسلمان درخت لگائے یا کھیت لگائے، پھر اس میں سے کوئی درندہ، پرندہ یا کوئی اور چیز کھائے، تو اس کے لیے اجر ہے۔ یہاں اصل لفظ اجر آیا ہے، اس لیے اس روایت میں شجرکاری کا ثواب اور کھیتی کا فائدہ دونوں باتیں موجود ہیں۔ یہ حدیث انسان کو بتاتی ہے کہ اس کی محنت کا فائدہ اگر مخلوق تک پہنچے تو وہ ضائع نہیں جاتا۔ درخت یا کھیت کے پھل سے مالک کے علاوہ پرندے، جانور یا دوسری مخلوق بھی فائدہ اٹھائے تو حدیث کے مطابق لگانے والے کے لیے اجر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • درخت یا کھیت لگانا مخلوق کے فائدے کا سبب بن سکتا ہے۔
  • درندہ، پرندہ یا کوئی اور کھائے تو اجر کا ذکر ہے۔
  • مسلمان کی محنت کا فائدہ صرف اپنے کھانے تک محدود نہیں رہتا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں