صحیح مسلم حدیث ۳۹۷۹ - اگر پھل نہ اگے تو مال کس بدلے؟
اگر پھل نہ اگے تو بھائی کا مال کس بدلے لیا جائے؟
صحیح مسلم : ۳۹۷۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۷۹
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنْ لَمْ يُثْمِرْهَا اللَّهُ ، فَبِمَ يَسْتَحِلُّ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ ؟ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ پھلوں کو نہ اگائے تو تم کس کے بدلے اپنے بھائی کا مال لو گے؟“
صحیح مسلم حدیث ۳۹۷۹ کا خلاصہ
یہ حدیث مختصر ہے مگر اس کا پیغام بہت واضح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ پھلوں کو نہ اگائے تو تم اپنے بھائی کا مال کس کے بدلے لو گے؟ یہ جملہ پھل کی بیع، آفت یا پیداوار نہ ہونے کی صورت اور ناحق مال لینے سے بچنے کے بارے میں ہے۔ حدیث میں لمبی تفصیل نہیں، مگر سوال کے انداز میں ایک بڑی بات سمجھائی گئی ہے کہ جب جس چیز کے بدلے مال لیا جا رہا ہے وہی حاصل نہ ہو تو مال لینے کی بنیاد کیا رہتی ہے؟ اس لیے یہ روایت خرید و فروخت میں انصاف، نقصان کی حقیقت اور بھائی کے حق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتی ہے۔ اصل زور اسی پر ہے کہ معاملہ ایسا نہ ہو جس میں ایک کا مال بلا حق چلا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اگر پھل پیدا نہ ہو تو خریدار کا مال لینے کی بنیاد باقی نہیں رہتی۔
- حدیث میں بھائی کے مال کو ناحق لینے سے روکا گیا ہے۔
- خرید و فروخت میں اصل چیز کے حاصل ہونے کا خیال ضروری ہے۔
