صحیح مسلم حدیث ۳۹۷۷ - رنگ پکڑنے سے پہلے کھجور کی بیع منع
کھجور کی بیع: رنگ پکڑنے سے پہلے فروخت کیوں منع کی گئی؟
صحیح مسلم : ۳۹۷۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۷۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ " ، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ : مَا زَهْوُهَا ؟ قَالَ : تَحْمَرُّ ، وَتَصْفَرُّ ، أَرَأَيْتَكَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ ، بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ ؟ .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا کھجور کی بیع سے درخت پر جب تک وہ رنگ نہ پکڑے۔ حمید نے کہا: ہم لوگوں نے پوچھا رنگ پکڑنے کے کیا معنی؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: لال یا پیلا نہ ہو۔ بھلا تو دیکھ اگر اللہ تعالیٰ روک لے پھلوں کو (یعنی وہ نہ بڑھیں اور تلف ہو جائیں) تو تو کس چیز کے بدل اپنے بھائی کا مال حلال کرے گا؟
صحیح مسلم حدیث ۳۹۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں کھجور کے پھل کی بیع کا خاص حکم بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر موجود کھجور کی فروخت سے منع فرمایا جب تک وہ رنگ نہ پکڑے۔ جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ رنگ پکڑنے کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے بتایا کہ وہ لال یا پیلی ہو جائے۔ پھر ایک اہم بات کہی گئی کہ اگر اللہ تعالیٰ پھلوں کو روک لے، یعنی وہ نہ بڑھیں یا تلف ہو جائیں، تو آدمی اپنے بھائی کا مال کس چیز کے بدلے حلال کرے گا؟ اس حدیث میں پھل کی بیع، کھجور کا رنگ پکڑنا، آفت یا نقصان کا اندیشہ اور بھائی کا مال ناحق نہ لینے کی تعلیم شامل ہے۔ بات کا رخ انصاف اور واضح فائدے کی طرف ہے، تاکہ غیر پکے پھل کے خطرے سے کسی کا مال غلط طریقے سے نہ لیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھجور کے پھل کو رنگ پکڑنے سے پہلے بیچنے سے منع کیا گیا۔
- رنگ پکڑنے کی علامت لال یا پیلا ہونا بیان ہوئی۔
- اگر پھل نہ بنے تو خریدار کا مال ناحق لینے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
