صحیح مسلم حدیث ۳۹۸۷ - مفلس کے پاس مال بعینہ ملنے کا حکم
مفلس کے پاس اصل مال ملے تو کون حق دار ہے؟
صحیح مسلم : ۳۹۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۸۷
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَدْرَكَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ ، أَوْ إِنْسَانٍ قَدْ أَفْلَسَ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یا میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص اپنا مال بجنسہ کسی شخص یا کسی آدمی کے پاس پائے اور وہ مفلس ہو گیا ہو تو زیادہ حق دار ہے اس مال کا اوروں سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۹۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مفلس شخص کے پاس موجود اصل مال کا حق ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنا مال بعینہ کسی ایسے شخص کے پاس پائے جو مفلس ہو گیا ہو، تو وہ اس مال کا دوسروں سے زیادہ حق دار ہے۔ حدیث میں بات بہت صاف ہے: اگر مال جوں کا توں موجود ہے، تو اس کا مالک عام قرض خواہوں کی نسبت اس پر زیادہ حق رکھتا ہے۔ اس سے خریدار مفلس ہو جائے، بیچا ہوا مال واپس لینے کی حدیث، اور مال بعینہ ملنے کا حکم جیسے اہم موضوعات سامنے آتے ہیں۔ یہاں ہمیں کسی اضافی شرط یا تفصیل کو اپنی طرف سے شامل نہیں کرنا چاہیے۔ روایت کا دائرہ اسی بات تک ہے کہ اصل مال موجود ہو اور دوسرا شخص مفلس ہو چکا ہو، تو مالک کا حق مقدم بتایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اگر اصل مال جوں کا توں موجود ہو تو مالک کا حق خاص طور پر بیان ہوا ہے۔
- مفلس کے معاملے میں بھی حقوق کو واضح رکھا گیا۔
- قرض خواہوں کے درمیان مال کے حق کا اصول بتایا گیا۔
- حدیث میں جو بات آئی ہے اسی حد تک حکم سمجھنا چاہیے۔
