صحیح مسلم حدیث ۳۹۸۸ - اصل مال پر مالک کا حق

مفلس کے پاس مال بعینہ: دوسری سندوں سے تائید

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۸۸

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، جميعا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، كل هؤلاء عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ ، وقَالَ ابْنُ رُمْحٍ : مِنْ بَيْنِهِمْ فِي رِوَايَتِهِ : أَيُّمَا امْرِئٍ فُلِّسَ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۹۸۸ کا خلاصہ

یہ حدیث پچھلی روایت کے معنی ہی کو مختلف سندوں سے بیان کرتی ہے۔ متن میں بتایا گیا ہے کہ سب نے اسی مفہوم کو روایت کیا، اور ایک روایت میں یہ الفاظ آئے کہ کوئی شخص مفلس قرار دیا جائے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ جب کسی کا مال بعینہ، یعنی جوں کا توں، ایسے شخص کے پاس ملے جو مفلس ہو چکا ہو تو مالک اس مال کا زیادہ حق دار ہے۔ یہ مفلس کی حدیث، خریدار مفلس ہو جائے، اور بیچا ہوا مال واپس لینے کی حدیث کے لیے اہم مضمون ہے۔ اس روایت میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، بلکہ سابقہ حکم کی تائید ہے۔ اسی لیے تشریح میں بھی بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے کہ اصل مال موجود ہو تو اس کے مالک کا حق عام قرض خواہوں کے مقابلے میں واضح کیا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت پچھلے حکم کی تائید کرتی ہے۔
  • مال کا جوں کا توں موجود ہونا اہم بات ہے۔
  • مفلس کے معاملے میں مالک کا حق نظر انداز نہیں کیا گیا۔
  • حدیث کے الفاظ سے آگے بڑھ کر نئی شرطیں نہیں لگانی چاہئیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں