صحیح مسلم حدیث ۳۹۸۹ - بائع کا حق جب مال باقی ہو
خریدار مفلس ہو جائے تو بائع کے مال کا حکم
صحیح مسلم : ۳۹۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۸۹
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَهُوَ ابْنُ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الرَّجُلِ الَّذِي يُعْدِمُ ، إِذَا وُجِدَ عِنْدَهُ الْمَتَاعُ ، وَلَمْ يُفَرِّقْهُ أَنَّهُ لِصَاحِبِهِ الَّذِي بَاعَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کے باب میں جو نادار ہو جائے جب اس کے پاس مال بجنسہ ملے (جو اس نے خریدا تھا) اور اس نے اس میں کوئی تصرف نہ کیا ہو ”تو وہ بائع کا ہو گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۹۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک خاص صورت بیان ہوئی ہے: ایک شخص نادار ہو جائے، اس کے پاس وہی مال ملے جو اس نے خریدا تھا، اور اس نے اس میں کوئی تصرف نہ کیا ہو۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ مال اس بائع کا ہو گا جس نے اسے فروخت کیا تھا۔ اس حدیث کا اصل موضوع خریدار مفلس ہو جائے تو بیچا ہوا مال واپس لینے کا حکم ہے۔ یہاں مال کا موجود ہونا اور اس میں تصرف نہ ہونا متن میں صاف آیا ہے، اس لیے تشریح بھی اسی حد تک رہنی چاہیے۔ مفلس کی حدیث، بائع کا حق، اور اصل مال کی واپسی جیسے سرچ الفاظ اس مضمون کے لیے مناسب ہیں۔ یہ روایت قرض اور خرید و فروخت کے معاملے میں حق دار کی پہچان سکھاتی ہے، نہ کہ ہر قرض کے بارے میں عمومی دعویٰ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اگر خریدار نادار ہو جائے اور مال جوں کا توں ہو تو بائع کا حق بیان ہوا ہے۔
- حدیث میں مال میں تصرف نہ ہونے کی بات خاص طور پر آئی ہے۔
- قرض اور خرید و فروخت میں حق دار کی پہچان ضروری ہے۔
- اس روایت کا حکم اسی خاص صورت سے متعلق ہے جو متن میں بیان ہوئی۔
