صحیح مسلم حدیث ۳۹۹ - سورج کا عرش کے نیچے سجدہ
سورج کہاں جاتا ہے؟ عرش کے نیچے سجدے والی حدیث
صحیح مسلم : ۳۹۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۹
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوب : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ ، سَمِعَهُ فِيمَا أَعْلَمُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمًا : " أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ ؟ قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : إِنَّ هَذِهِ تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَتَخِرُّ سَاجِدَةً ، فَلَا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا : ارْتَفِعِي ، ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ ، فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا ، ثُمَّ تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَخِرُّ سَاجِدَةً ، وَلَا تَزَالُ كَذَلِكَ ، حَتَّى يُقَالَ لَهَا : ارْتَفِعِي ، ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ ، فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا ، ثُمَّ تَجْرِي لَا يَسْتَنْكِرُ النَّاسَ مِنْهَا شَيْئًا ، حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا ذَاكَ تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَيُقَالُ لَهَا : ارْتَفِعِي ، أَصْبِحِي طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِكِ ، فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَدْرُونَ مَتَى ذَاكُمْ ذَاكَ ؟ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا ، لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا " .
ابوذر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ایک دن فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں فرمایا: ”یہ چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ پر عرش کے تلے آتا ہے وہاں سجدہ میں گرتا ہے (اس سجدہ کا مفہوم اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے) پھر اسی حال میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس کو حکم ہوتا ہے اونچا ہو جا اور جا جہاں سے آیا ہے وہ لوٹ آتا ہے اور اپنے نکلنے کی جگہ سے نکلتا ہے۔پھر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ عرش تلے آتا ہے اور سجدہ کرتا ہے پھر اسی حال میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اس سے کہا جاتا ہے اونچا ہو جا اور لوٹ جا جہاں سے آیا ہے۔ وہ نکلتا ہے اپنے نکلنے کی جگہ سے پھر چلتا ہے اسی طرح ایک بار اسی طرح چلے گا اور لوگوں کو کوئی فرق اس کی چال میں معلوم نہ ہو گا یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ پر آئے گا عرش کے تلے اس وقت اس سے کہا جائے گا اونچا ہو جا اور نکل جا پچھّم کی طرف سے جدھر تو ڈوبتا ہے وہ نکلے گا پچھّم کی طرف سے۔“پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو یہ کب ہو گا (یعنی آفتاب کا پچھّم کی طرف سے نکلنا) یہ اس وقت ہو گا جب کسی کو ایمان لانا فائدہ نہ دے گا، جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو اس نے نیک کام نہ کئے ہوں اپنے ایمان میں۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ صحابہ نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ سورج اپنے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے نیچے جاتا ہے، وہاں سجدہ کرتا ہے، پھر اسے حکم دیا جاتا ہے کہ جہاں سے آیا ہے واپس جا، تو وہ اپنی نکلنے کی جگہ سے نکلتا ہے۔ اسی طرح ایک وقت آئے گا جب اسے کہا جائے گا کہ مغرب کی طرف سے نکل، پھر وہ مغرب سے نکلے گا۔ آخر میں فرمایا کہ یہ وہ وقت ہو گا جب اس شخص کا ایمان فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہیں لایا یا ایمان کے ساتھ نیکی نہیں کی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں سورج کے عرش کے نیچے سجدہ کرنے کا ذکر ہے، اس کی کیفیت اللہ بہتر جانتا ہے۔
- سورج کے مغرب سے نکلنے کا واقعہ ایمان کے وقت کے ختم ہونے سے جوڑا گیا ہے۔
- ایمان اور نیکی کو بڑی نشانی آنے سے پہلے اختیار کرنا چاہیے۔
