صحیح مسلم حدیث ۴۰۰ - سورج کے ٹھہرنے کی جگہ والی روایت

سورج کے عرش کے نیچے سجدے کی حدیث کی تائید

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۰

وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَوْمًا أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ ؟ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّة َ .

ابوذر روایت:

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟“ باقی الفاظ گزشتہ حدیث کی مثل۔

صحیح مسلم حدیث ۴۰۰ کا خلاصہ

یہ روایت سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ہے اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہی سوال نقل ہوا ہے کہ کیا تم جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ پھر بتایا گیا ہے کہ باقی الفاظ پچھلی حدیث کے معنی کے مثل ہیں۔ اس لیے اس روایت کا اصل مضمون بھی وہی ہے: سورج کا اپنے مقرر ٹھہرنے کی جگہ تک جانا، عرش کے نیچے سجدہ کرنا، حکم ملنے پر واپس نکلنا، اور آخر کار ایک وقت ایسا آنا جب اسے مغرب کی طرف سے نکلنے کا حکم دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ایمان کے وقت کا مسئلہ بھی پچھلی حدیث کے مطابق سمجھا جائے گا۔ اس روایت میں نئی تفصیل نہیں، بلکہ پہلے مضمون کی تائید ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت پچھلی حدیث کے معنی کی تائید کرتی ہے۔
  • سورج کے عرش کے نیچے سجدے کی کیفیت کو اپنی طرف سے بیان نہیں کرنا چاہیے۔
  • مغرب سے سورج نکلنے سے پہلے ایمان اور نیکی کی فکر ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں