صحیح مسلم حدیث ۳۹۹۱ - قرض خواہوں سے زیادہ حق دار کون

مفلس کے مال میں اصل مالک کا حق: قرض خواہوں سے مقدم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۹۱

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَيْضًا ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَا : فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنَ الْغُرَمَاءِ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ ”وہ زیادہ حقدار ہے اس کا دوسرے قرض خواہوں سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۹۹۱ کا خلاصہ

یہ حدیث پچھلی روایت ہی کے معنی کو بیان کرتی ہے اور اس میں خاص الفاظ آئے ہیں کہ وہ شخص اپنے مال کا دوسرے قرض خواہوں سے زیادہ حق دار ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر صورت میں ہر دعویٰ قبول ہو جائے، بلکہ متن میں بات اسی حالت کی ہے جب مال بعینہ موجود ہو۔ مفلس کی حدیث کا یہ حصہ حقوق کی ترتیب سمجھاتا ہے۔ جب کوئی شخص دیوالیہ یا نادار ہو جائے تو کئی لوگ اپنا حق مانگ سکتے ہیں، مگر اگر کسی کا اصل سامان موجود ہے تو حدیث میں اس کے حق کو نمایاں کیا گیا ہے۔ خریدار مفلس ہو جائے، مال بعینہ ملنا، اور قرض خواہوں سے زیادہ حق دار جیسے سرچ الفاظ اسی روایت کے اصل پیغام کو ظاہر کرتے ہیں۔ تشریح میں نئی شرطیں شامل کیے بغیر متن کے قریب رہنا ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اصل مال موجود ہو تو مالک کا حق واضح کیا گیا۔
  • قرض خواہوں کے درمیان حق کی ترتیب کا اصول ملتا ہے۔
  • مفلس کے معاملے میں انصاف کے ساتھ فیصلہ مطلوب ہے۔
  • حدیث کا دائرہ اسی مال تک ہے جو بعینہ ملے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں