صحیح مسلم حدیث ۳۹۹۲ - سلعہ بعینہ پر اصل مالک کا حق

سلعہ بعینہ ملنے کی حدیث: مفلس کے معاملے میں حق کی وضاحت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۹۲

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ حَجَّاجٌ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ عِنْدَهُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی مفلس ہو جائے پھر دوسرا شخص اپنا اسباب اس کے پاس پائے تو وہ زیادہ حقدار ہے اس کا۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۹۹۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں بھی وہی اصول بیان ہوا ہے کہ جب کوئی آدمی مفلس ہو جائے اور دوسرا شخص اپنی چیز اس کے پاس بعینہ پائے تو وہ اس چیز کا زیادہ حق دار ہے۔ یہاں لفظ سلعہ یعنی چیز یا سامان آیا ہے، اور بعینہ کا مطلب ہے کہ وہی چیز موجود ہو۔ اس لیے اس حدیث کا موضوع مفلس، اصل سامان، اور مالک کا حق ہے۔ جو لوگ مفلس کی حدیث، بیچا ہوا مال واپس لینے کی حدیث، یا خریدار مفلس ہو جائے جیسے الفاظ تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت بہت اہم ہے۔ اس میں قرض دار کو برا کہنے یا سخت الفاظ استعمال کرنے کی تعلیم نہیں، بلکہ موجود مال کے حق کا اصول بتایا گیا ہے۔ اس طرح مالی معاملے میں صاف، محدود، اور منصفانہ بات سامنے آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مفلس کے پاس موجود اصل چیز پر مالک کا حق بیان ہوا۔
  • حدیث میں سلعہ بعینہ یعنی وہی چیز موجود ہونے کی شرط صاف ہے۔
  • مالی جھگڑے میں حق کی پہچان ضروری ہے۔
  • روایت صرف اس صورت کو بیان کرتی ہے جس کا ذکر متن میں ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں