صحیح مسلم حدیث ۴۰۲۳ - بلا ضرورت کتا پالنے پر عمل میں کمی
کتا پالنے کی حدیث: بلا ضرورت رکھنے پر دو قیراط کمی
صحیح مسلم : ۴۰۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۲۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا ، إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ ، أَوْ ضَارِي ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی کتا پالا سوا اس کتے کے جو جانوروں کی حفاظت کے لئے ہو یا شکاری ہو تو اس کا ثواب ہر روز دو قیراط کے برابر کم ہو گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتا پالنے کے بارے میں ایک واضح بات فرمائی۔ جو شخص کتا پالے، مگر وہ جانوروں کی حفاظت کے لیے نہ ہو اور نہ شکاری ہو، تو اس کے عمل میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوتے ہیں۔ یہاں اصل توجہ ضرورت اور بے ضرورت رکھنے کے فرق پر ہے۔ مویشیوں کی حفاظت اور شکار کے لیے کتا رکھنے کا استثنا متن میں موجود ہے، لیکن عام طور پر کتا پالنے پر نقصان کا ذکر بھی اسی حدیث میں ہے۔ اس لیے جب کوئی کتا پالنے کی حدیث، دو قیراط حدیث، یا جانوروں کی حفاظت کے کتے کا حکم تلاش کرتا ہے تو یہ روایت بہت متعلق ہے۔ اس سے عبادت اور عمل کی حفاظت کا احساس بھی پیدا ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مویشیوں کی حفاظت کے کتے کو حدیث میں مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
- شکاری کتے کی اجازت بھی روایت میں موجود ہے۔
- بلا ضرورت کتا رکھنے سے روزانہ عمل میں کمی کا ذکر آیا ہے۔
