صحیح مسلم حدیث ۴۰۲۴ - شکاری یا حفاظتی کتے کے سوا نقصان
کتا پالنے کا حکم: شکار اور حفاظت کے علاوہ احتیاط
صحیح مسلم : ۴۰۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۲۴
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا ، إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ ، أَوْ مَاشِيَةٍ ، نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کتا پالے بشرطیکہ وہ شکاری یا جانوروں کی حفاظت کے لیے نہ ہو اس کے ثواب میں سے ہر روز دو قیراط گھٹتے جائیں گے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۲۴ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی کتا پالنے کی حد کو بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کتا پالے، بشرطیکہ وہ شکاری نہ ہو یا جانوروں کی حفاظت کے لیے نہ ہو، تو اس کے اجر میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوتے جائیں گے۔ الفاظ میں اجر کا ذکر ہے، اس لیے بات انسان کے نیک عمل اور ثواب سے جڑی ہوئی ہے۔ متن میں جو دو صورتیں مستثنیٰ ہیں وہ شکار اور جانوروں کی حفاظت ہیں۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ کتے کو ضرورت کے کام کے لیے رکھنا اور بے مقصد رکھنا ایک جیسا نہیں۔ اسی وجہ سے لوگ اسے شکاری کتے کی حدیث، مویشی کے کتے کا حکم، اور کتا پالنے سے اجر کم ہونے والی حدیث کے طور پر تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شکار کے لیے کتا رکھنا اس روایت میں مستثنیٰ ہے۔
- جانوروں کی حفاظت کے لیے کتا رکھنے کا ذکر اجازت کے ساتھ ہے۔
- بلا ضرورت کتا پالنے پر اجر میں کمی بیان ہوئی ہے۔
