صحیح مسلم حدیث ۴۰۲۵ - شکاری اور ریوڑ کے سوا کتا پالنے کا نقصان

ریوڑ اور شکاری کتے کی اجازت، باقی میں احتیاط

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۲۵

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا ، إِلَّا كَلْبَ ضَارِيَةٍ ، أَوْ مَاشِيَةٍ ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کتا پالے سوا شکاری کتے یا ریوڑ کے تو اس کے عمل میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۰۲۵ کا خلاصہ

اس روایت میں الفاظ مختصر ہیں مگر پیغام صاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کتا پالے، سوائے شکاری کتے یا ریوڑ کے کتے کے، تو اس کے عمل میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔ یہاں ریوڑ کا کتا وہ ہے جو جانوروں کی حفاظت کے کام آئے، اور شکاری کتا شکار کے لیے ہو۔ حدیث کا زور اسی فرق پر ہے کہ ضرورت کے کام والا کتا الگ ہے، اور بے ضرورت پالنا الگ۔ اس لیے اس روایت سے کتا پالنے کا حکم، ریوڑ کے کتے کی اجازت، اور کتے کی وجہ سے عمل میں کمی جیسے الفاظ جڑتے ہیں۔ متن سے باہر کوئی اضافی بات شامل کیے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آدمی کو اپنے عمل کی حفاظت کا خیال رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شکاری کتے کا استثنا روایت میں موجود ہے۔
  • ریوڑ کی حفاظت والے کتے کا حکم الگ بیان ہوا ہے۔
  • بے ضرورت کتا پالنے پر روزانہ دو قیراط کمی بتائی گئی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں