صحیح مسلم حدیث ۴۰۲۶ - ایک قیراط کمی اور کھیت کے کتے کا ذکر
کتا رکھنے کی حدیث: مویشی، شکار اور کھیت کا استثنا
صحیح مسلم : ۴۰۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۲۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا ، إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ ، أَوْ كَلْبَ صَيْدٍ ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کتا پالے سوا جانوروں کی حفاظت کے لیے یا شکاری کتے کے اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کھیت کا کتا زیادہ کیا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۰۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ جو شخص کتا پالے، سوائے جانوروں کی حفاظت یا شکار کے کتے کے، اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا۔ اس روایت کے آخر میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کھیت کے کتے کا اضافہ بھی بیان کیا۔ اس سے حدیث کے الفاظ میں تین اہم سرچ موضوع آتے ہیں: مویشی کا کتا، شکاری کتا، اور کھیت کا کتا۔ یہاں کمی ایک قیراط کے طور پر بیان ہوئی ہے، اس لیے اسے اسی روایت کے لفظ کے مطابق سمجھنا چاہیے۔ متن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اجازت ضرورت کے کاموں کے ساتھ جڑی ہے، عام شوق کے طور پر کتا رکھنے کے ساتھ نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں ایک قیراط کمی کا ذکر ہے۔
- جانوروں کی حفاظت اور شکار کے کتے کو مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بیان میں کھیت کے کتے کا اضافہ آیا ہے۔
