صحیح مسلم حدیث ۴۰۲۷ - شکاری، مویشی اور کھیت کے کتے کا حکم

کتا پالنے کا حکم: عمل میں کمی اور کھیت کے کتے کا ذکر

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۲۷

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا ، إِلَّا كَلْبَ ضَارٍ ، أَوْ مَاشِيَةٍ ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " ، قَالَ سَالِمٌ : وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ ، وَكَانَ صَاحِبَ حَرْثٍ .

عبداللہ بن عمر روایت:

سالم نے روایت کی اپنے باپ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کتا پالے مگر وہ شکاری یا جانوروں کی حفاظت کے لئے نہ ہو تو اس کے عمل میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔“ سالم نے کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے اور کھیت کا نہ ہو اور ان کا کھیت بھی تھا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۰۲۷ کا خلاصہ

اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کتا پالے اور وہ شکاری یا جانوروں کی حفاظت کے لیے نہ ہو، تو اس کے عمل میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔ سالم رحمہ اللہ نے یہ بھی بتایا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھیت کے کتے کا ذکر کرتے تھے، اور وہ خود کھیت والے تھے۔ اس حدیث میں دو قیراط، شکاری کتا، مویشی کا کتا اور کھیت کا کتا جیسے الفاظ خاص اہم ہیں۔ بات بہت سیدھی ہے: متن میں جن کاموں کا ذکر آیا ہے، وہ استثنا کے طور پر سمجھے گئے؛ باقی صورت میں عمل کی کمی کا بیان آیا۔ اس سے مسلمان کو اپنے روزانہ کے عمل اور اجر کے معاملے میں سنجیدگی کا سبق ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بلا ضرورت کتا پالنے پر دو قیراط کمی کا ذکر ہے۔
  • شکاری اور مویشی کے کتے کا استثنا حدیث میں ہے۔
  • کھیت کے کتے کا ذکر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول میں آیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں