صحیح مسلم حدیث ۴۰۲۸ - گھر والوں کے عمل سے دو قیراط کمی
گھر میں کتا رکھنے کی حدیث: شکار اور حفاظت کے سوا احتیاط
صحیح مسلم : ۴۰۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۲۸
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا أَهْلِ دَارٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا ، إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ ، أَوْ كَلْبَ صَائِدٍ ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " .
سالم بن عبداللہ روایت:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جس گھر کے لوگوں نے کتا رکھا اور وہ جانوروں کی حفاظت کے لئے یا شکاری نہ ہو ان کے عمل میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۲۸ کا خلاصہ
یہ حدیث گھر کے لوگوں کے حوالے سے کتا رکھنے کا حکم بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر کے لوگوں نے کتا رکھا، اور وہ جانوروں کی حفاظت یا شکار کے لیے نہ ہو، تو ان کے عمل میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔ اس روایت میں بات فرد کے بجائے گھر والوں کے انداز میں آئی ہے، اس لیے سرچ کے لیے گھر میں کتا رکھنے کی حدیث، گھر میں کتا پالنے کا حکم، اور دو قیراط کمی جیسے الفاظ بہت قریب ہیں۔ متن میں صرف دو استثنا بیان ہوئے ہیں: مویشی کی حفاظت اور شکار۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے اصل بات یہی ہے کہ کتا رکھنے کا معاملہ ضرورت سے جڑا ہے، اور بے مقصد رکھنے پر عمل کے نقصان کا ذکر آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر والوں کے لیے بھی عمل میں کمی کا ذکر آیا ہے۔
- شکاری کتے کو اس روایت میں مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
- جانوروں کی حفاظت کے کتے کی اجازت بیان ہوئی ہے۔
