صحیح مسلم حدیث ۴۰۲۹ - کھیت، بکریوں اور شکار کے کتے کا استثنا
کھیت، بکریوں اور شکار کے کتے کا حکم حدیث کی روشنی میں
صحیح مسلم : ۴۰۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۲۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا ، إِلَّا كَلْبَ زَرْعٍ ، أَوْ غَنَمٍ ، أَوْ صَيْدٍ ، يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کتا رکھے مگر وہ کھیت کا یا بکریوں کا یا شکار کا کتا نہ ہو تو اس کے ثواب میں سے ہر روز ایک قیراط کے برابر کم ہو گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۲۹ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان ہے کہ جو شخص کتا رکھے، مگر وہ کھیت کا، بکریوں کا یا شکار کا کتا نہ ہو، تو اس کے ثواب میں سے ہر روز ایک قیراط کے برابر کمی ہو گی۔ یہاں تین صورتیں صاف طور پر بیان ہوئی ہیں: کھیت کی حفاظت، بکریوں کی حفاظت، اور شکار۔ اس لیے یہ حدیث کتا پالنے کی حدیث، کھیت کے کتے کا حکم، بکریوں کے کتے کی اجازت، اور ایک قیراط کمی کے موضوع پر بہت اہم ہے۔ متن میں کمی ایک قیراط کے لفظ سے آئی ہے، اس لیے اسے اسی طرح بیان کرنا درست ہے۔ حدیث کا سادہ سبق یہ ہے کہ ضرورت کے کاموں کا لحاظ رکھا گیا، مگر بے ضرورت کتا رکھنے پر اجر کے نقصان کا ذکر کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھیت کے کتے کو اس روایت میں مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
- بکریوں کی حفاظت والے کتے کا ذکر اجازت کے ساتھ ہے۔
- شکار کے کتے کے علاوہ بے ضرورت کتا رکھنے پر ایک قیراط کمی آئی ہے۔
