صحیح مسلم حدیث ۴۰۳۰ - شکار، مویشی اور زمین کے کتے کے سوا نقصان
کتا پالنے کا حکم: شکار، مویشی اور زمین کے کتے کا استثنا
صحیح مسلم : ۴۰۳۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۳۰
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ ، وَلَا مَاشِيَةٍ ، وَلَا أَرْضٍ ، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ قِيرَاطَانِ كُلَّ يَوْمٍ " . وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي الطَّاهِرِ : وَلَا أَرْضٍ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کتا پالے اور وہ شکاری نہ ہو اور نہ جانوروں کی حفاظت کے لیے ہو، نہ زمین کے (یعنی کھیت کے) تو اس کے ثواب میں سے دو قیراط کا ہر روز نقصان ہو گا۔“ اور ابوالطاہر کی روایت میں «وَلاَ أَرْضٍ» کا لفظ نہیں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۰۳۰ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان ہے کہ جو شخص کتا پالے، اور وہ شکاری نہ ہو، جانوروں کی حفاظت کے لیے نہ ہو، اور زمین یعنی کھیت کے لیے نہ ہو، تو اس کے ثواب میں سے ہر روز دو قیراط کا نقصان ہو گا۔ روایت کے آخر میں یہ بھی آیا کہ ابوالطاہر کی روایت میں زمین کا لفظ نہیں ہے۔ اس لیے اس حدیث کو بیان کرتے وقت متن کے الفاظ کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ سرچ کے لحاظ سے کتا پالنے کا حکم، دو قیراط نقصان، شکاری کتا، مویشی کا کتا اور کھیت کا کتا سب متعلقہ الفاظ ہیں۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ کتا رکھنے کی اجازت ضرورت والی صورتوں تک محدود انداز میں بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں دو قیراط اجر کی کمی کا ذکر ہے۔
- شکاری اور مویشی کے کتے کو مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
- ایک روایت میں زمین یا کھیت کے کتے کا ذکر بھی موجود ہے۔
