صحیح مسلم حدیث ۴۰۳۱ - ریوڑ، شکار اور کھیت کے کتے کی اجازت
ریوڑ، شکار اور کھیت کے کتے کی حدیث: ایک قیراط کمی
صحیح مسلم : ۴۰۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۳۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا ، إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ ، أَوْ صَيْدٍ ، أَوْ زَرْعٍ ، انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَذُكِرَ لِابْنِ عُمَرَ ، قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ صَاحِبَ زَرْعٍ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کتا پالے مگر کتا ریوڑ کا یا شکار کا یا کھیت کا اس کے ثواب میں ہر روز ایک قیراط کمی ہو گی۔“ زہری نے کہا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر ہوا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کا کہ وہ کھیت کے کتے کو بھی مستثنیٰ کرتے ہیں، تو انہوں نے کہا: رحم کرے اللہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر وہ کھیت والے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۰۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص کتا رکھے، مگر وہ ریوڑ کا، شکار کا یا کھیت کا کتا ہو تو مستثنیٰ ہے، ورنہ اس کے ثواب میں ہر روز ایک قیراط کمی ہو گی۔ زہری رحمہ اللہ نے بتایا کہ جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا کھیت کے کتے والا قول ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ اللہ ابوہریرہ پر رحم کرے، وہ کھیت والے تھے۔ اس روایت میں ایک قیراط، ریوڑ کا کتا، شکار کا کتا اور کھیت کا کتا سب صاف الفاظ میں آتے ہیں۔ حدیث کو سمجھنے میں یہی سادہ اصول سامنے رہتا ہے کہ ضرورت والی صورتوں کا ذکر الگ آیا ہے، اور عام کتا رکھنے پر اجر کی کمی بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ریوڑ کے کتے کا استثنا روایت میں موجود ہے۔
- شکار اور کھیت کے کتے کا ذکر بھی آیا ہے۔
- بلا ضرورت کتا رکھنے پر ایک قیراط کمی بیان ہوئی ہے۔
