صحیح مسلم حدیث ۴۰۳۲ - کھیت یا ریوڑ کے کتے کے سوا ایک قیراط کمی
کتا رکھنے کی حدیث: کھیت اور ریوڑ کے کتے کا استثنا
صحیح مسلم : ۴۰۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۳۲
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا ، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ، إِلَّا كَلْبَ حَرْثٍ ، أَوْ مَاشِيَةٍ " ،
ابوہریرہ روایت:
جو شخص کتا رکھے اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم کیا جائے گا مگر کھیت کا کتا یا ریوڑ کا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۳۲ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر مگر واضح ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص کتا رکھے، اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم کیا جائے گا، مگر کھیت کا کتا یا ریوڑ کا کتا۔ اس متن میں شکار کا ذکر نہیں آیا، بلکہ خاص طور پر کھیت اور ریوڑ کے کتے کا استثنا بیان ہوا ہے۔ اس لیے اس روایت کے لیے اہم سرچ الفاظ کھیت کا کتا، ریوڑ کا کتا، ایک قیراط کمی، اور کتا رکھنے کی حدیث ہیں۔ حدیث کا مقصد یہی سمجھ آتا ہے کہ بلا ضرورت کتا رکھنا عمل کے نقصان کا سبب بتایا گیا، جبکہ کھیت اور ریوڑ جیسے کاموں کے لیے رخصت موجود ہے۔ اس روایت کو دوسرے الفاظ ملائے بغیر اسی حد میں بیان کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھیت کے کتے کو مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
- ریوڑ کے کتے کی اجازت اس روایت میں آئی ہے۔
- عام طور پر کتا رکھنے پر ایک قیراط کمی کا ذکر ہے۔
