صحیح مسلم حدیث ۴۰۴ - خدیجہ رضی اللہ عنہا کی حوصلہ افزائی
خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تسلی اور آغاز وحی کا بیان
صحیح مسلم : ۴۰۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۴
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَوَاللَّهِ لَا يُحْزِنُكَ اللَّهُ أَبَدًا وَقَالَ : قَالَتْ خَدِيجَةُ : أَيِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ .
عائشہ روایت:
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوسری روایت بھی ایسی ہی ہے اس میں اتنا فرق ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رنجیدہ نہ کرے گا۔ (اور اگلی روایت میں یوں تھا رسوا نہ کرے گا) اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ورقہ سے کہا: اے چچا کے بیٹے سنئیے! اپنے بھتیجے کی بات (اور اگلی روایت میں یوں تھا اے چچا! سنئیے اپنے بھتیجے کی بات)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۰۴ کا خلاصہ
یہ روایت پہلی وحی والی حدیث ہی کے مضمون کو بیان کرتی ہے، مگر اس میں چند لفظی فرق ذکر ہوئے ہیں۔ خاص طور پر خدیجہ رضی اللہ عنہا کا جملہ آیا کہ اللہ آپ کو کبھی رنجیدہ نہ کرے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی تجربے کے بعد خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت، اعتماد اور یقین کے ساتھ آپ کو سہارا دیا۔ اس حدیث میں آغاز وحی، خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تسلی، ورقہ بن نوفل اور غار حرا کے واقعے کا خلاصہ موجود ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ جب کوئی سچا اور نیک شخص پریشان ہو تو اس کے اچھے کردار کو یاد دلا کر اسے حوصلہ دینا چاہیے۔ یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ روایت کا اصل مضمون برقرار رہتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل وقت میں محبت بھرے الفاظ انسان کو سنبھال سکتے ہیں۔
- خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو دلیل بنایا۔
- ایک ہی واقعہ مختلف راویوں سے معمولی لفظی فرق کے ساتھ آ سکتا ہے۔
- نیکی اور سچائی بندے کے لیے عزت کا سبب بنتی ہے۔
