صحیح مسلم حدیث ۴۰۵ - وحی کے بعد دل کا کانپنا
وحی کے بعد دل کا کانپنا اور خدیجہ رضی اللہ عنہا کی مدد
صحیح مسلم : ۴۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۵
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَرَجَعَ إِلَى خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِهِ ، أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ ، وَتَابَعَ يُونُسَ عَلَى قَوْلِهِ ، فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا ، وَذَكَرَ قَوْلَ خَدِيجَةَ : أَيِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ .
اس روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی طرف اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل کانپ رہا تھا۔ اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ سب سے پہلے جو وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شروع ہوئی وہ سچا خواب تھا اور پہلی روایت کی طرح اس میں یہ ہے کہ اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ورقہ سے کہا کہ اے چچا کے بیٹے! سنئیے اپنے بھتیجے کی۔
صحیح مسلم حدیث ۴۰۵ کا خلاصہ
اس روایت میں آغاز وحی کے واقعے کا وہ حصہ نمایاں ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس حال میں واپس آئے کہ آپ کا دل کانپ رہا تھا۔ یہاں سچے خوابوں کا ابتدائی ذکر نہیں، بلکہ اصل توجہ وحی کے بعد کی کیفیت، خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تسلی اور ورقہ بن نوفل کے پاس لے جانے پر ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی کا معاملہ بہت عظیم تھا، اسی لیے پہلی بار اس کے اثر سے جسم اور دل پر ہیبت طاری ہوئی۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی نیکیوں، سچائی، صلہ رحمی اور لوگوں کی مدد یاد دلا کر اطمینان دیا۔ آغاز وحی، دل کا کانپنا، خدیجہ کی مدد اور ورقہ بن نوفل اس حدیث کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وحی کا معاملہ بہت عظیم تھا اور اس کی ہیبت فطری طور پر محسوس ہوئی۔
- نیک شریک حیات مشکل وقت میں بڑا سہارا بن سکتا ہے۔
- اچھے اخلاق انسان کی پہچان بن جاتے ہیں۔
- پریشانی میں قابل اعتماد اہل علم یا سمجھ دار شخص سے بات کرنا مفید ہو سکتا ہے۔
