صحیح مسلم حدیث ۴۰۶ - وحی کا وقفہ اور سورہ مدثر
سورہ مدثر کا نزول اور وحی کا دوبارہ جاری ہونا
صحیح مسلم : ۴۰۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۶
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ : " فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي ، سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ ، جَالِسًا عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا ، فَرَجَعْتُ ، فَقُلْتُ : زَمِّلُونِي ، زَمِّلُونِي ، فَدَثَّرُونِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ { 1 } قُمْ فَأَنْذِرْ { 2 } وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ { 3 } وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ { 4 } وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ { 5 } سورة المدثر آية 1-5 ، وَهِيَ الأَوْثَانُ ، قَالَ : ثُمَّ تَتَابَعَ الْوَحْيُ " .
جابر بن عبداللہ انصاری روایت:
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ صحابہ میں سے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے، فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذکر کرتے تھے وحی موقوف ہو جانے کا: ”ایک بار میں جا رہا تھا، میں نے آسمان سے آواز سنی تو میں نے سر اٹھایا دیکھا تو وہی فرشتہ جو حرا میں میرے پاس آیا ایک کرسی پر بیٹھا ہے، آسمان اور زمین کے بیچ میں، یہ دیکھ کر میں سہم گیا ڈر کے مارے اور لوٹ کر گھر میں آیا، میں نے کہا مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ انہوں نے کپڑا اوڑھا دیا۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» یعنی ”اے کپڑا اوڑھنے والے اٹھ اور ذرا لوگوں کو ڈرا اور اپنے مالک کی بڑائی کر اور اپنے کپڑوں کو پاک کر اور پلیدی چھوڑ دے“۔ پلیدی سے مراد بت ہیں پھر وحی برابر آنے لگی۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان نقل کرتے ہیں کہ وحی کچھ مدت کے لیے موقوف رہی۔ پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ آسمان سے آواز سنی۔ سر اٹھایا تو وہی فرشتہ نظر آیا جو غار حرا میں آیا تھا، آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس منظر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوف زدہ ہوئے اور گھر آ کر فرمایا مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ پھر سورہ مدثر کی آیات نازل ہوئیں: اٹھو، خبردار کرو، اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، کپڑے پاک رکھو اور بتوں سے الگ رہو۔ سورہ مدثر کا نزول، وحی کا وقفہ، قم فانذر اور والرجز فاہجر اس حدیث کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وحی اللہ کے حکم سے رکتی اور جاری ہوتی ہے۔
- دعوت کا آغاز اللہ کی بڑائی اور شرک سے دوری کے پیغام کے ساتھ ہوا۔
- پاکیزگی اور بتوں سے دور رہنا اس بیان میں صاف ذکر ہے۔
- خوف کی حالت میں سہارا لینا انسانی فطرت کے مطابق ہے۔
