صحیح مسلم حدیث ۴۰۷۳ - سونا چاندی کے تبادلے میں نقد شرط
سونا چاندی کی بیع: برابر بھی، نقد بھی
صحیح مسلم : ۴۰۷۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۷۳
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيه ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ ، وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَشْتَرِيَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا وَنَشْتَرِيَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا ، قَالَ : فَسَأَلَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَدًا بِيَدٍ ، فَقَالَ : هَكَذَا سَمِعْتُ " ،
ابوبکرہ روایت:
منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے، بیچنے سے مگر برابر برابر اور حکم کیا ہم کو چاندی خریدنے کا سونے کے بدل جس طرح سے ہم چاہیں اور سونا خریدنے کا چاندی کے بدل جس طرح سے ہم چاہیں۔ ایک شخص نے پوچھا اور کہا: نقدا نقد، انہوں نے کہا: میں نے ایسا ہی سنا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۰۷۳ کا خلاصہ
یہ حدیث سونا چاندی کی خرید و فروخت کو نہایت آسان الفاظ میں سمجھاتی ہے۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، مگر برابر برابر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا چاندی کے بدلے یا چاندی سونے کے بدلے خریدنے کی اجازت دی جس طرح چاہیں، لیکن سوال پر وضاحت ہوئی کہ یہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔ اس سے اصل فرق سمجھ آتا ہے: ایک ہی جنس ہو تو برابری ضروری ہے، اور جنس بدل جائے تو قیمت میں فرق ہو سکتا ہے، مگر نقد ہونا چاہیے۔ حدیث کا پیغام تجارت میں آسانی کے ساتھ احتیاط ہے۔ آدمی سونا چاندی کا معاملہ کرے تو وزن، قیمت اور قبضہ سب صاف رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سونا سونے کے بدلے ہو تو برابر ہونا چاہیے۔
- چاندی چاندی کے بدلے ہو تو برابری لازم ہے۔
- سونا چاندی کے باہمی تبادلے میں نقدی کی شرط بیان ہوئی ہے۔
- سوال پوچھ کر حکم کی وضاحت حاصل کی گئی۔
