صحیح مسلم حدیث ۴۰۹۶ - زکریا والی روایت زیادہ مکمل ہے
حلال، حرام اور شبہات: مکمل روایت کی اہمیت
صحیح مسلم : ۴۰۹۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۹۶
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، وَأَبِى فَرْوَةَ الهمداني . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ زَكَرِيَّاءَ أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَأَكْثَرُ ،
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔ لیکن زکریا کی حدیث ان سب سے زیادہ مکمل ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۰۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا کہ یہی روایت کئی راویوں سے مروی ہے، لیکن زکریا کی حدیث ان سب سے زیادہ مکمل اور زیادہ مفصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس جگہ اصل مضمون وہی ہے جو حلال و حرام، شبہات، اللہ کی حرام کردہ حدوں اور دل کی اصلاح سے متعلق پچھلی حدیث میں آیا۔ یہاں ایک اہم تعلیمی فائدہ بھی ہے: کبھی ایک ہی حدیث مختلف الفاظ یا طوالت کے ساتھ آتی ہے، اور بعض روایتیں زیادہ مکمل ہوتی ہیں۔ عملی سبق پھر بھی وہی ہے کہ مشکوک معاملات میں احتیاط، حلال کمائی، حرام سے دوری اور دل کی اصلاح کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کبھی ایک حدیث کی بعض روایتیں زیادہ مکمل ہوتی ہیں۔
- اصل سبق شبہات سے بچنے اور حرام سے دور رہنے کا ہے۔
- دل کی اصلاح کا تعلق عمل کی درستی سے ہے۔
