صحیح مسلم حدیث ۴۰۹۷ - خطبے میں حلال و حرام کی نصیحت
حلال واضح اور حرام واضح: خطبے کی روایت
صحیح مسلم : ۴۰۹۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۹۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ : أَنَّهُ سَمِعَ نُعْمَانَ بْنَ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِحِمْصَ وَهُوَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْحَلَالُ بَيِّنٌ ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ " فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ زَكَرِيَّاءَ عَنْ الشَّعْبِيِّ إِلَى قَوْلِهِ يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ .
نعمان بن بشیر بن سعد روایت:
سیدنا نعمان بن بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو صحابی تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور وہ خطبہ سناتے تھے لوگوں کو حمص (ایک شہر کا نام ہے شام میں) اور کہتے تھے میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”حلال کھلا ہوا ہے اور حرام کھلا ہوا ہے۔“ پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری «يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ» تک۔
صحیح مسلم حدیث ۴۰۹۷ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے کہ وہ حمص میں لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سنی ہوئی بات بیان کرتے تھے: حلال کھلا ہوا ہے اور حرام کھلا ہوا ہے۔ پھر وہی مضمون بیان کیا گیا جو پہلے گزرا، یہاں تک کہ شبہات میں پڑنے والا حرام کے قریب جا پڑتا ہے۔ اس حدیث کا انداز بہت عوامی اور عملی ہے، جیسے خطبے میں لوگوں کو سیدھی نصیحت دی جا رہی ہو۔ ہر مسلمان کے لیے سبق ہے کہ صرف کھلے حرام سے بچنا کافی نہیں، بلکہ مشتبہ معاملات میں بھی احتیاط دین کو محفوظ رکھنے کا سبب بنتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خطبے میں عام لوگوں کو حلال و حرام کا واضح سبق دیا گیا۔
- شبہات میں پڑنا انسان کو حرام کے قریب کر سکتا ہے۔
- احتیاط دین کی حفاظت کا ایک عملی راستہ ہے۔
