صحیح مسلم حدیث ۴۰۹۸ - شرط کے ساتھ اونٹ کی بیع اور احسان
جابر رضی اللہ عنہ کے اونٹ کی بیع کا واقعہ
صحیح مسلم : ۴۰۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۹۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ ، قَالَ : فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا لِي وَضَرَبَهُ ، فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ ، قَالَ : بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ ، قُلْتُ : لَا ، ثُمَّ قَالَ : بِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ وَاسْتَثْنَيْتُ عَلَيْهِ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي ، فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ ، فَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي ، فَقَالَ : أَتُرَانِي مَاكَسْتُكَ لِآخُذَ جَمَلَكَ ، خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ فَهُوَ لَكَ " ،
جابر بن عبداللہ روایت:
وہ جا رہے تھے ایک اونٹ پر جو تھک گیا تھا۔ انہوں نے چاہا اس کو آزاد کر دینا (یعنی چھوڑ دینا جنگل میں) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آن کر ملے اور میرے لیے دعا کی اور اونٹ کو مارا، پھر وہ ایسا چلا کہ وہ ایسا کبھی نہیں چلا تھا (یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو میرے ہاتھ بیچ ڈال ایک اوقیہ پر۔“ (دوسری روایت میں پانچ اوقیہ ہیں اور اوقیہ زیادہ دیا۔ اور ایک روایت میں دو اوقیہ اور ایک درہم یا دو درہم ہیں۔ اور ایک روایت میں سونے کا ایک اوقیہ اور ایک روایت میں چار دینار اور بخاری نے ایک روایت میں آٹھ سو درہم اور ایک روایت میں بیس دینار اور ایک روایت میں چار اوقیہ نقل کیے ہیں) میں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو میرے ہاتھ بیچ ڈال۔“ میں نے ایک اوقیہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ اور شرط کی اس پر سواری کی اپنے گھر تک۔جب میں اپنے گھر پہنچا تو اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت میرے حوالے کی، میں لوٹا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو بلا بھیجا اور فرمایا: ”کیا میں تجھ سے قیمت کم کراتا تھا تیرا اونٹ لینے کے لیے اپنا اونٹ لے جا اور روپیہ بھی تیرا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے تھکے ہوئے اونٹ کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان کے لیے دعا کی اور اونٹ کو ہلکا سا مارا تو وہ پہلے سے بہتر چلنے لگا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے اونٹ خریدنے کی بات کی، جابر رضی اللہ عنہ نے بیچ دیا اور گھر تک سواری کی شرط رکھی۔ مدینہ پہنچ کر اونٹ آپ صلى الله عليه وسلم کے پاس لائے، آپ صلى الله عليه وسلم نے قیمت ادا کی، پھر انہیں واپس بلا کر فرمایا کہ کیا میں قیمت کم کراتا تھا تاکہ تمہارا اونٹ لے لوں؟ اپنا اونٹ بھی لے جاؤ اور رقم بھی تمہاری ہے۔ یہ واقعہ بیع، شرط، نرمی اور احسان کا خوبصورت سبق دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیع میں واضح شرط رکھی جا سکتی ہے، جیسے گھر تک سواری۔
- معاملہ کرتے وقت نرمی اور خیرخواہی بہت اچھا اخلاق ہے۔
- قیمت ادا کرنے کے بعد بھی احسان کیا جا سکتا ہے۔
