صحیح مسلم حدیث ۴۱۰۰ - اونٹ کی بیع، گھر کی ذمہ داری اور نرمی
جابر رضی اللہ عنہ کا اونٹ، نکاح اور ذمہ داری
صحیح مسلم : ۴۱۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۰۰
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ ، قَالَ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَلَاحَقَ بِي وَتَحْتِي نَاضِحٌ لِي قَدْ أَعْيَا وَلَا يَكَادُ يَسِيرُ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : مَا لِبَعِيرِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : عَلِيلٌ ، قَالَ : فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ ، فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : كَيْفَ تَرَى بَعِيرَكَ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ ، قَالَ : أَفَتَبِيعُنِيهِ ؟ فَاسْتَحْيَيْتُ وَلَمْ يَكُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي عَرُوسٌ ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي ، فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى انْتَهَيْتُ ، فَلَقِيَنِي خَالِي فَسَأَلَنِي عَنِ الْبَعِيرِ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلَامَنِي فِيهِ قَالَ : وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِي حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ : مَا تَزَوَّجْتَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ ، فَقُلْتُ لَهُ : تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا ، قَالَ : أَفَلَا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا ؟ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُوُفِّيَ وَالِدِي أَوِ اسْتُشْهِدَ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ ، فَلَا تُؤَدِّبُهُنَّ وَلَا تَقُومُ عَلَيْهِنَّ ، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْبَعِيرِ ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَيَّ " ،
جابر بن عبداللہ روایت:
میں نے جہاد کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ملے (راہ میں) اور میری سواری میں ایک اونٹ تھا پانی کا، وہ تھک گیا تھا اور بالکل چل نہ سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیرے اونٹ کو کیا ہوا ہے؟“ میں نے عرض کیا: وہ بیمار ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹے اور اونٹ کو ڈانٹا اور اس کے لیے دعا کی پھر وہ ہمیشہ سب اونٹوں کے آگے ہی چلتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تیرا اونٹ کیسا ہے؟“ میں نے کہا: اچھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ہاتھ بیچتا ہے۔“ مجھے شرم آئی اور ہمارے پاس اور کوئی اونٹ پانی لانے کے لیے نہ تھا۔ آخر میں نے کہا: بیچتا ہوں۔ پھر میں نے اس اونٹ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچ ڈالا اس شرط سے کہ میں اس پر سواری کروں گا مدینے تک۔ پھر میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! میں نوشہ ہوں (یعنی ابھی میرا نکاح ہوا ہے) مجھے اجازت دیجئے (لوگوں سے پہلے مدینہ جانے کی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی میں لوگوں سے آگے بڑھ کر مدینہ آ پہنچا۔وہاں میرے ماموں ملے۔ اونٹ کا حال پوچھا میں نے سب حال بیان کیا۔ انہوں نے مجھ کو ملامت کی (کہ ایک ہی اونٹ تھا تیرے پاس اور گھر والے بہت ہیں اس کو بھی تو نے بیچ ڈالا۔ اور اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ اللہ کریم کو جابر رضی اللہ عنہ کا فائدہ منظور ہے) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے کنواری سے شادی کی یا نکاحی سے؟“ میں نے کہا: نکاحی سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ کی؟ وہ تجھ سے کھیلتی اور تو اس سے کھیلتا۔“میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میرا باپ مر گیا یا شہید ہو گیا میری کئی بہنیں چھوڑ کر چھوٹی چھوٹی تو مجھے برا معلوم ہوا کہ میں شادی کر کے اور ایک لڑکی لاؤں ان کے برابر جو نہ ان کو ادب سکھائے اور نہ ان کو دبائے۔ اس لیے میں نے ایک نکاحی سے شادی کی تاکہ ان کو دابے اور تمیز سکھائے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے، میں اونٹ صبح ہی لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت مجھ کو دی اور اونٹ بھی پھیر دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۰۰ کا خلاصہ
اس طویل روایت میں کئی باتیں ایک ساتھ آتی ہیں، مگر اصل واقعہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے تھکے ہوئے اونٹ، نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی دعا، پھر اونٹ کی بیع اور مدینہ تک سواری کی شرط سے متعلق ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان کا نکاح نیا ہوا تھا، اور انہوں نے بیوہ عورت سے شادی اس لیے کی کہ گھر میں چھوٹی بہنوں کی دیکھ بھال اور تربیت ہو سکے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ان سے نرمی سے گفتگو کی، اجازت دی، پھر مدینہ میں اونٹ کی قیمت بھی دی اور اونٹ بھی واپس کر دیا۔ یہ حدیث معاملہ، خیرخواہی، گھر کی ذمہ داری اور نرم گفتگو کا بہت روشن سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خرید و فروخت میں شرط واضح کرنا درست اور مفید ہو سکتا ہے۔
- گھر کی ذمہ داری کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا سمجھ داری ہے۔
- نرمی، دعا اور احسان نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے اخلاق میں نمایاں ہیں۔
