صحیح مسلم حدیث ۴۱۰۱ - جابر کے اونٹ کی حدیث اور حسن معاملہ
جابر کے اونٹ کی حدیث: خرید و فروخت میں نرمی اور احسان
صحیح مسلم : ۴۱۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۰۱
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاعْتَلَّ جَمَلِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : " لِي بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا ، قَالَ : قُلْتُ : لَا بَلْ هُوَ لَكَ ، قَالَ : لَا بَلْ بِعْنِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : لَا بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : لَا بَلْ بِعْنِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا ، قَالَ : قَدْ أَخَذْتُهُ ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ : " أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزِدْهُ " قَالَ : فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزَادَنِي قِيرَاطًا ، قَالَ : فَقُلْتُ : لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَكَانَ فِي كِيسٍ لِي فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ ،
جابر روایت:
ہم لوگ مکہ سے مدینہ کو آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو میرا اونٹ بیمار ہو گیا اور بیان کیا حدیث کو پورے قصہ کے ساتھ اور اس روایت میں یہ ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ہاتھ اپنا اونٹ بیچ ڈال۔“ میں نے کہا: وہ آپ ہی کا ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بیچ ڈال میرے ہاتھ۔“میں نے کہا: نہیں، وہ آپ کا ہے یا رسول اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بیچ ڈال میرے ہاتھ۔“ میں نے کہا: تو ایک شخص کا میرے اوپر ایک اوقیہ سونا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اوقیہ سونے کے بدلے یہ اونٹ لے لیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے لیا پھر تو پہنچ جائے گا اسی اونٹ پر مدینہ تک۔“جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب میں مدینہ میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس کو ایک اوقیہ سونے کا دے دے اور کچھ زیادہ دے۔“ تو بلال رضی اللہ عنہ نے مجھ کو ایک اوقیہ سونے کا دیا اور ایک قیراط زیادہ دیا۔ میں نے کہا: یہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو زیادہ دیا ہے وہ ہمیشہ میرے پاس رہے (بطور تبرک کے) تو ایک تھیلی میں وہ میرے پاس رہا۔ یہاں تک کہ شام والوں نے یوم الحرہ کو چھین لیا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ کے اونٹ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ سفر میں ان کا اونٹ بیمار ہو گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنا اونٹ مجھے بیچ دو۔ جابر رضی اللہ عنہ نے پہلے اسے ویسے ہی پیش کرنا چاہا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ خریدنے کا فرمایا۔ پھر ایک اوقیہ سونے کے بدلے معاملہ طے ہوا اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ اسی اونٹ پر مدینہ تک پہنچ جائیں۔ مدینہ پہنچنے پر انہیں قیمت بھی دی گئی اور کچھ زیادہ بھی دیا گیا۔ جابر کے اونٹ کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ خرید و فروخت میں صاف بات، نرم لہجہ اور ادائیگی میں اچھا رویہ کتنا خوبصورت عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خرید و فروخت میں بات صاف اور دونوں طرف سے سمجھ کر ہونی چاہیے۔
- کسی کی ضرورت دیکھ کر معاملے میں نرمی کرنا اچھا اخلاق ہے۔
- ادائیگی کرتے وقت اچھا برتاؤ اور اضافی احسان دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے۔
- سفر میں ساتھی کی پریشانی کا خیال رکھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے معلوم ہوتا ہے۔
