صحیح مسلم حدیث ۴۱۰۲ - سفر میں مدد اور اللہ کا نام
سفر کی حدیث: اللہ کا نام لے کر سوار ہونا اور ساتھی کی مدد
صحیح مسلم : ۴۱۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۰۲
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَتَخَلَّفَ نَاضِحِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ : فِيهِ فَنَخَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ لِي : " ارْكَبْ بِاسْمِ اللَّهِ " وَزَادَ أَيْضًا قَالَ : فَمَا زَالَ يَزِيدُنِي وَيَقُولُ : " وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے سفر میں تو میرا اونٹ پیچھے رہ گیا اور بیان کیا حدیث کو اور کہا اس میں پھر ٹھونسا دیا اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، پھر مجھ سے کہا: ”سوار ہو جا اللہ تعالیٰ کا نام لے کر۔“ اور یہ بھی زیادہ کیا کہ آپ مجھ کو زیادہ دیتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے: ”اللہ بخش دے تجھ کو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۱۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا سفر کا واقعہ آتا ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے اور ان کا اونٹ پیچھے رہ گیا۔ روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو ٹھونسا، پھر جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر سوار ہو جاؤ۔ اس کے ساتھ یہ بھی بیان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں زیادہ دیتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ اللہ تمہیں بخش دے۔ سفر کی حدیث میں اصل بات یہی سامنے آتی ہے کہ ساتھی کی مشکل کو محسوس کیا جائے، اسے حوصلہ دیا جائے، اور کام کا آغاز اللہ کے نام سے کیا جائے۔ اس میں دعا، مدد اور نرم دلی تینوں باتیں صاف نظر آتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں پیچھے رہ جانے والے ساتھی کا خیال رکھنا چاہیے۔
- کسی کام یا سواری کے آغاز پر اللہ کا نام لینا یاد دہانی کا اچھا طریقہ ہے۔
- دعا اور حوصلہ انسان کی پریشانی کم کر دیتے ہیں۔
- مدد کرتے وقت نرم الفاظ اور اچھا رویہ بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔
