صحیح مسلم حدیث ۴۱۰۳ - شرط والی بیع اور نبی کریم کا احسان
شرط کے ساتھ خرید و فروخت: جابر کے اونٹ کا واقعہ
صحیح مسلم : ۴۱۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۰۳
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " لَمَّا أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي ، قَالَ : فَنَخَسَهُ ، فَوَثَبَ فَكُنْتُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ لِأَسْمَعَ حَدِيثَهُ ، فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ ، فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بِعْنِيهِ ، فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ ، قَالَ : قُلْتُ : عَلَى أَنَّ لِي ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ ، فَزَادَنِي وُقِيَّةً ثُمَّ وَهَبَهُ لِي " ،
جابر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرا اونٹ خستہ ہو گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ٹھونسا دیا وہ کودنے لگا، اس کے بعد میں اس کی نکیل کھینچتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنوں، لیکن اس کو تھام نہ سکتا (ایسا تیز چلنے لگا) آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آ کر ملے اور فرمایا: ”اس کو میرے ہاتھ بیچ ڈال۔“میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچ ڈالا پانچ اوقیہ پر اور میں نے یہ شرط کر لی کہ مدینہ منورہ تک میں اس پر سواری کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ تک تو سوار رہ۔“ جب میں مدینہ پہنچا تو وہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ اور زیادہ دیا، اور اونٹ بھی مجھ کو بخش دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۰۳ کا خلاصہ
اس روایت میں جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، جبکہ ان کا اونٹ تھک چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ٹھونسا تو وہ تیز چلنے لگا، یہاں تک کہ جابر رضی اللہ عنہ اسے روک کر آپ کی بات سننا چاہتے تھے مگر روک نہ پاتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے میرے ہاتھ بیچ دو۔ جابر رضی اللہ عنہ نے پانچ اوقیہ پر بیچ دیا اور شرط رکھی کہ مدینہ تک وہ اسی پر سوار رہیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط مان لی۔ مدینہ پہنچنے پر قیمت سے ایک اوقیہ زیادہ دیا اور اونٹ بھی جابر رضی اللہ عنہ کو بخش دیا۔ یہ حدیث شرط والی بیع، صاف معاملہ اور احسان کی ایک آسان مثال ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- معاملہ کرتے وقت شرط واضح طور پر بیان کی جا سکتی ہے۔
- دوسرے کی ضرورت کو دیکھ کر نرمی کرنا اچھا اخلاق ہے۔
- قیمت ادا کرنے میں اضافہ اور تحفہ دینا احسان کی صورت بن سکتا ہے۔
- بات چیت میں صاف گوئی معاملے کو بہتر بناتی ہے۔
