صحیح مسلم حدیث ۴۱۰۴ - قیمت بھی اور اونٹ بھی
قیمت بھی لے اور اونٹ بھی لے: حسن معاملہ کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۱۰۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۰۴
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ أَظُنُّهُ ، قَالَ : غَازِيًا وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ ، قَالَ : " يَا جَابِرُ أَتَوَفَّيْتَ الثَّمَنَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
میں نے سفر کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، راوی نے کہا: جابر نے شاید جہاد کا سفر کیا پھر بیان کیا سارا قصہ اتنا زیادہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! تو نے قیمت پائی۔“ جابر نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیمت لے اور اونٹ بھی لے، قیمت بھی لے اور اونٹ بھی لے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۱۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے سفر کا وہی واقعہ مختصر انداز میں بیان ہوا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ جابر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا، شاید وہ جہاد کا سفر تھا۔ پھر پورا قصہ بیان ہوا اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے جابر! کیا تم نے قیمت پا لی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیمت بھی تمہاری ہے اور اونٹ بھی تمہارا ہے۔ یہ جابر کے اونٹ کی حدیث کا ایک نہایت دل کو چھو لینے والا حصہ ہے۔ اس میں خرید و فروخت کے بعد احسان، خوش دلی اور نرم معاملہ صاف نظر آتا ہے۔ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ معاملہ مکمل ہونے کے بعد بھی کسی کے ساتھ بھلائی کی جا سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- معاملہ مکمل ہونے کے بعد بھی احسان کرنا اچھا عمل ہے۔
- قیمت کی ادائیگی صاف انداز میں ہونی چاہیے۔
- کسی کی دل جوئی کے لیے اچھا برتاؤ بڑی قدر رکھتا ہے۔
- سخاوت صرف مال دینے کا نام نہیں، بلکہ خوش دلی سے دینے کا نام بھی ہے۔
