صحیح مسلم حدیث ۴۱۰۶ - مقرر قیمت اور گوشت کی تقسیم
مقرر قیمت پر خرید و فروخت اور لوگوں میں تقسیم
صحیح مسلم : ۴۱۰۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۰۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا مُحَارِبٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِثَمَنٍ قَدْ سَمَّاهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْوُقِيَّتَيْنِ وَالدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ ، وَقَالَ : أَمَرَ بِبَقَرَةٍ ، فَنُحِرَتْ ثُمَّ قَسَمَ لَحْمَهَا .
جابر بن عبداللہ روایت:
یہی قصہ جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ مجھ سے خریدا اس قیمت پر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کی۔ اور نہ اوقیوں کا ذکر کیا نہ ایک درہم نہ دو درہموں کا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا ایک گائے کے نحر کرنے کا پھر اس کا گوشت بانٹا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۰۶ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلے واقعے ہی کا ایک انداز ہے۔ اس میں جابر رضی اللہ عنہ سے بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ ان سے اس قیمت پر خریدا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کی۔ اس روایت میں اوقیہ، ایک درہم یا دو درہم کا ذکر نہیں آیا، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ قیمت طے ہوئی اور معاملہ کیا گیا۔ پھر یہ بھی بیان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گائے نحر کرنے کا حکم دیا اور اس کا گوشت تقسیم کیا گیا۔ اس حدیث کا مرکزی پہلو خرید و فروخت میں مقرر قیمت اور لوگوں کے درمیان کھانے کی تقسیم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے مختلف الفاظ میں کبھی تفصیل آتی ہے اور کبھی خلاصہ، مگر اصل واقعہ معاملہ داری، ادائیگی اور بھلائی سے جڑا رہتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خرید و فروخت میں قیمت کا طے ہونا اہم بات ہے۔
- ایک ہی واقعہ مختلف روایات میں کبھی مختصر اور کبھی تفصیل سے آتا ہے۔
- لوگوں میں کھانا تقسیم کرنا بھلائی کا عمل ہے۔
- معاملہ کرتے وقت اصل بات وضاحت اور رضا مندی ہے۔
