صحیح مسلم حدیث ۴۲۱۱ - وصیت اور ہجرت کا احساس
وصیت کی حدیث: سعد رضی اللہ عنہ کا واقعہ اور ہجرت کا ذکر
صحیح مسلم : ۴۲۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۱۱
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ يَعُودُنِي ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ غَيْرَ ، أَنَّهُ قَالَ : وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔ یہ ہے کہ انہوں نے برا جانا مرنا اس زمین میں جہاں سے ہجرت کی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۲۱۱ کا خلاصہ
یہ روایت بھی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے اسی واقعے کے معنی میں ہے۔ اس میں سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کا خاص جملہ نہیں آیا، البتہ یہ ذکر ہے کہ اس زمین میں مرنا ناپسند کیا گیا جہاں سے ہجرت کی گئی تھی۔ اصل مضمون پھر بھی وصیت اور مال کی مقدار ہی ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے بیماری کی حالت میں اپنے مال کے بارے میں پوچھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پورا مال یا آدھا مال دینے کی اجازت نہیں دی۔ ایک تہائی کا معاملہ سامنے آیا۔ اس حدیث سے ایک تہائی وصیت، وصیت کا حکم، اور وارثوں کا خیال جیسے موضوع سمجھ آتے ہیں۔ متن کی حد تک یہی بات ہے کہ صدقہ کی خواہش کے ساتھ گھر والوں کی ضرورت بھی نظر میں رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت سعد رضی اللہ عنہ کے واقعے کو معنی کے ساتھ بیان کرتی ہے۔
- وصیت میں پورے مال یا آدھے مال سے روکنے کا مضمون برقرار ہے۔
- حدیث میں ہجرت والی زمین میں موت کو ناپسند کرنے کا ذکر بھی آیا ہے۔
