صحیح مسلم حدیث ۴۲۱۵ - وصیت، صدقہ اور اہلِ خانہ
وصیت اور اہلِ خانہ: سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۲۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۱۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ ثَلَاثَةٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ كُلُّهُمْ يُحَدِّثُهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى سَعْدٍ يَعُودُهُ بِمَكَّةَ ، فَبَكَى ، قَالَ : مَا يُبْكِيكَ ، فَقَالَ : قَدْ خَشِيتُ أَنْ أَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرْتُ مِنْهَا كَمَا مَاتَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا ، ثَلَاثَ مِرَارٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَإِنَّمَا يَرِثُنِي ابْنَتِي أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَبِالثُّلُثَيْنِ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَالنِّصْفُ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَالثُّلُثُ ، قَالَ : الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ، إِنَّ صَدَقَتَكَ مِنْ مَالِكَ صَدَقَةٌ ، وَإِنَّ نَفَقَتَكَ عَلَى عِيَالِكَ صَدَقَةٌ ، وَإِنَّ مَا تَأْكُلُ امْرَأَتُكَ مِنْ مَالِكَ صَدَقَةٌ ، وَإِنَّكَ أَنْ تَدَعَ أَهْلَكَ بِخَيْرٍ ، أَوَ قَالَ : بِعَيْشٍ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ، وَقَالَ : بِيَدِهِ " ،
سعد بن ابی وقاص روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں مکہ شریف میں بیمار پرسی کے لئے وہ رونے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو کیوں روتا ہے؟“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے ڈر ہے کہیں مر جاؤں اس زمین میں جس سے ہجرت کی تھی میں نے جیسے سعد بن خولہ مر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! اچھا کر دے سعد کو۔“ تین بار پھر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس بہت مال ہے اور میری ایک بیٹی ہے کیا میں سارے مال کی وصیت کر دوں؟ (فقرا اور مساکین کے لئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“میں نے عرض کیا: اچھا دو تہائی مال کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: اچھا نصف کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: تہائی کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تہائی اور تہائی بہت ہے اور تو جو صدقہ دے اپنے مال میں سے وہ تو صدقہ ہے اور جو خرچ کرتا ہے اپنے بال بچوں پر وہ بھی صدقہ ہے اور جو تیری بی بی کھاتی ہے تیرے مال میں سے وہ بھی صدقہ ہے اور جو تو اپنے لوگوں کو بھلائی سے اور عیش سے چھوڑ جائے (یعنی مالدار اور غنی) تو یہ بہتر ہے اس سے کہ تو چھوڑ جائے ان کو لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے۔“ اشارہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۲۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بیمار ہونے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت، اور وصیت کے سوال کا ذکر ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ کے پاس زیادہ مال تھا اور ایک بیٹی وارث تھی، اس لیے انہوں نے پورے مال، پھر دو تہائی، پھر نصف مال کی وصیت کا پوچھا۔ ہر بار اجازت نہ ملی۔ جب تہائی کا پوچھا تو فرمایا گیا کہ تہائی، اور تہائی بھی بہت ہے۔ اس روایت میں یہ بھی آیا کہ اپنے مال سے صدقہ کرنا صدقہ ہے، اہل و عیال پر خرچ بھی صدقہ ہے، اور بیوی جو تمہارے مال سے کھاتی ہے وہ بھی صدقہ ہے۔ وصیت کی حدیث یہاں گھر والوں کے حق اور صدقہ دونوں کو متوازن انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وصیت میں تہائی سے زیادہ کا سوال رد کیا گیا۔
- اہل و عیال پر خرچ کو بھی صدقہ کہا گیا۔
- گھر والوں کو بہتر حال میں چھوڑنا حدیث میں بہتر بتایا گیا۔
- بیمار کی عیادت اور دعا کا پہلو بھی روایت میں موجود ہے۔
