صحیح مسلم حدیث ۴۲۱۶ - سعد رضی اللہ عنہ کی عیادت اور وصیت
سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث: عیادت، وصیت اور تہائی
صحیح مسلم : ۴۲۱۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۱۶
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ ثَلَاثَةٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ ، قَالُوا : مَرِضَ سَعْدٌ بِمَكَّةَ ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ بِنَحْوِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ ،
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے تینوں بیٹوں سے روایت ہے، کہ انہوں نے فرمایا: کہ سعد رضی اللہ عنہ مکہ میں بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ باقی وہی ترجمہ ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۲۱۶ کا خلاصہ
یہ روایت بھی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے اسی واقعے سے متعلق ہے۔ وہ مکہ میں بیمار ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لیے تشریف لائے، اور پھر وصیت کے بارے میں سوالات ہوئے۔ چونکہ متن میں کہا گیا ہے کہ باقی وہی مضمون ہے جو اوپر گزرا، اس لیے اس کا مرکزی موضوع بھی وصیت میں تہائی، اہل و عیال کا خیال، اور مال کے معاملے میں توازن ہے۔ حدیث سے صاف سمجھ آتا ہے کہ انسان نیک کام کے لیے مال دینا چاہے تو بھی اپنے وارثوں اور گھر والوں کو نظر انداز نہ کرے۔ وصیت کی حدیث، تہائی وصیت، اور اہل و عیال پر خرچ صدقہ جیسے الفاظ اسی روایت کے مضمون سے جڑتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت سعد رضی اللہ عنہ کے واقعے کی تائید کرتی ہے۔
- وصیت میں تہائی کا مضمون اسی طرح برقرار ہے۔
- اہلِ خانہ کی ضرورت کو نظر میں رکھنا چاہیے۔
