صحیح مسلم حدیث ۴۲۱۸ - تہائی سے کم وصیت
وصیت میں چوتھائی بہتر؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول
صحیح مسلم : ۴۲۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۱۸
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنَ الثُّلُثِ إِلَى الرُّبُعِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ " وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ كَبِيرٌ أَوْ كَثِيرٌ .
ابن عباس روایت:
کاش لوگ ثلث سے کم کر کے چوتھائی کی وصیت کریں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثلث بہت ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۱۸ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ کاش لوگ تہائی سے کم کر کے چوتھائی کی وصیت کریں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تہائی بھی بہت ہے۔ یہاں اصل موضوع وصیت کی مقدار ہے۔ حدیث میں تہائی کی اجازت کا پہلو پہلے آ چکا ہے، مگر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے احتیاط اور نرمی کے طور پر چوتھائی کو پسند کیا۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ وصیت کرتے وقت انسان کو صرف دینے کا جذبہ نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ پیچھے رہ جانے والوں کی حالت بھی سوچنی چاہیے۔ تہائی وصیت، چوتھائی وصیت، اور الثلث والثلث كثير جیسے سرچ الفاظ اسی روایت سے متعلق ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تہائی سے کم یعنی چوتھائی کو پسند کیا۔
- اس پسند کی بنیاد حدیث کے جملے تہائی بھی بہت ہے پر ہے۔
- وصیت میں احتیاط اور وارثوں کا خیال سامنے رہنا چاہیے۔
