صحیح مسلم حدیث ۴۲۵۵ - غیر اللہ کی قسم سے بچنا

غیر اللہ کی قسم: حکم سن کر عادت چھوڑ دینا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۵۵

وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهَا وَلَا تَكَلَّمْتُ بِهَا ، وَلَمْ يَقُلْ ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا ،

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے کہ میں نے جب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم سے منع کرتے ہوئے سنا میں نے قسم نہیں کھائی اور نہ ہی اس کے ساتھ بات کی خود سے یا کسی سے روایت کرتے ہوئے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۲۵۵ کا خلاصہ

یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ دادا کی قسم کھانے سے منع فرمایا۔ اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آیا کہ جب سے انہوں نے یہ ممانعت سنی، انہوں نے اس قسم کو نہ خود کہا اور نہ کسی سے نقل کرتے ہوئے بات کی۔ قسم کی حدیث کا یہ پہلو بہت عملی ہے۔ کبھی زبان پر پرانی عادتیں چڑھی ہوتی ہیں، جیسے خاندان، بزرگوں یا کسی اور چیز کی قسم کھانا۔ مگر جب اللہ اور رسول کے حکم کا علم ہو جائے تو مومن اپنی زبان کو بدلتا ہے۔ اس حدیث میں بحث لمبی نہیں، عمل صاف ہے: منع سنا اور چھوڑ دیا۔ یہی انداز ہر مسلمان کے لیے بہتر ہے۔ قسم کو معمولی لفظ نہ سمجھا جائے، بلکہ اللہ کے نام کی حرمت کے ساتھ اس کا معاملہ رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غیر اللہ کی قسم زبان سے نہیں نکالنی چاہیے۔
  • پرانی عادت حکم معلوم ہونے کے بعد چھوڑ دی جائے۔
  • بات نقل کرتے وقت بھی غلط قسم دہرانے سے بچا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں