صحیح مسلم حدیث ۴۲۵۶ - باپ کی قسم کا حکم
باپ کی قسم نہیں: قسم صرف اللہ کے نام کی
صحیح مسلم : ۴۲۵۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۵۶
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ بِمِثْلِ رِوَايَةِ يُونُسَ ، وَمَعْمَرٍ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قسم کھاتے ہوئے اپنے باپ کی پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح۔
صحیح مسلم حدیث ۴۲۵۶ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا، پھر وہی حکم بیان فرمایا کہ باپ دادا کی قسم سے منع کیا گیا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی اچھے شخص کی زبان پر بھی پرانی عادت آ جائے تو اسے صحیح بات بتائی جاتی ہے۔ قسم کی حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ قسم اللہ کے نام سے متعلق ہے، خاندان یا آباء کے نام سے نہیں۔ اس میں کسی کی عزت کم کرنا مقصود نہیں، بلکہ اللہ کے نام کی عظمت کا خیال ہے۔ جب انسان قسم کھاتا ہے تو وہ ایک بڑی بات کہتا ہے، اس لیے اسے عام بول چال کی عادت نہیں بنانا چاہیے۔ اگر قسم کی ضرورت ہو تو اللہ کی قسم، ورنہ خاموشی بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- باپ کی قسم کھانے سے منع کیا گیا۔
- غلط عادت کو نرمی سے درست کیا جا سکتا ہے۔
- قسم کو اللہ کے نام کے ساتھ خاص رکھنا چاہیے۔
