صحیح مسلم حدیث ۴۲۵۷ - اللہ کی قسم کھاؤ یا خاموش رہو
قسم کا صحیح طریقہ: اللہ کی قسم یا خاموشی
صحیح مسلم : ۴۲۵۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۵۷
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي رَكْبٍ وَعُمَرُ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ ، فَنَادَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا ، فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ " ،
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پایا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو چند سواروں میں اور وہ قسم کھا رہے تھے اپنے باپ کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ان کو اور فرمایا: ”خبردار رہو اللہ تعالیٰ منع کرتا ہے تم کو اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے۔ پھر جو کوئی تم میں سے قسم کھانا چاہے وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھائے یا چپ رہے۔“ (یعنی قسم ہی نہ کھائے ضرورت کیا ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۲۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سواروں کے ایک گروہ میں دیکھا کہ وہ اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے۔ آپ نے سب کو پکار کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے، پھر فرمایا کہ جو قسم کھانا چاہے وہ اللہ کی قسم کھائے یا چپ رہے۔ یہ قسم کی حدیث بہت واضح اصول دیتی ہے۔ زبان پر ہر وقت قسم لانا بھی اچھی عادت نہیں، اور غیر اللہ کی قسم کھانا بھی منع ہے۔ اگر واقعی قسم کی ضرورت پیش آئے تو اللہ کے نام سے ہو۔ اگر ضرورت نہ ہو تو خاموشی اختیار کی جائے۔ حدیث میں “یا چپ رہے” کا لفظ ہماری روزمرہ گفتگو کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ غیر ضروری قسموں سے بچنا، اللہ کے نام کی عزت کرنا، اور بات کو سادہ رکھنا اس حدیث کی صاف تعلیم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قسم کھانی ہو تو اللہ کے نام کی قسم کھائی جائے۔
- باپ دادا کی قسم سے منع کیا گیا۔
- غیر ضروری قسم کے بجائے خاموش رہنا بہتر ہے۔
