صحیح مسلم حدیث ۴۲۶۰ - لات کی قسم اور کلمہ توحید

لات کی قسم کا کفارہ: لا إله إلا الله کہنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۶۰

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ مِنْكُمْ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ بِاللَّاتِ ، فَلْيَقُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ " ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص تم میں سے قسم کھائے لات (اور عزیٰ) کی (یہ دونوں بت تھے جاہلیت کے زمانے میں جن کی لوگ پوجا کرتے تھے) وہ کہے: «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ»۔ اور جو کوئی کہے دوسرے سے آ میں تجھ سے جوا کھیلوں تو وہ صدقہ دے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۲۶۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو باتیں بیان فرمائیں۔ پہلی یہ کہ اگر کسی شخص نے قسم میں لات کا نام لیا تو وہ لا إله إلا الله کہے۔ لات جاہلیت کے بتوں میں سے تھا، اس لیے یہ حکم توحید کی طرف زبان کو واپس لاتا ہے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ جو اپنے ساتھی سے کہے آؤ میں تم سے جوا کھیلوں، وہ صدقہ دے۔ اس حدیث کا پیغام بہت صاف ہے: زبان سے شرک والے الفاظ یا جوا جیسی بری دعوت نکل جائے تو فوراً اصلاح کی طرف آؤ۔ توحید کی حدیث میں لا إله إلا الله کا ذکر اس لیے ہے کہ بندہ اپنی زبان کو اللہ کی وحدانیت کے اقرار سے درست کرے۔ جوا کی دعوت پر صدقہ دینے کا حکم بھی زبان کی غلطی کے بعد نیکی کی طرف پلٹنے کا عملی طریقہ بتاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لات کی قسم زبان سے نکلے تو لا إله إلا الله کہا جائے۔
  • جوا کھیلنے کی دعوت دینا غلط بات ہے۔
  • زبان کی غلطی کے بعد فوراً نیکی کی طرف پلٹنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں