صحیح مسلم حدیث ۴۳۰۳ - لونڈی کو طمانچہ اور سوید رضی اللہ عنہ کی ناراضی
خادم کی عزت کی حدیث: معمولی بات پر ہاتھ نہ اٹھاؤ
صحیح مسلم : ۴۳۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۰۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، قَالَ : كُنَّا نَبِيعُ الْبَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ أَخِي النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ فَقَالَتْ لِرَجُلٍ مِنَّا كَلِمَةً ، فَلَطَمَهَا فَغَضِبَ سُوَيْدٌ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ .
ہلال بن یساف روایت:
ہم کپڑا بیچتے تھے سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر میں جو نعمان بن مقرن کے بھائی تھے، ایک لونڈی وہاں نکلی، اور اس نے ہم میں سے کسی کو کوئی بات کہی تو اس نے لونڈی کو طمانچہ مارا، سیدنا سوید رضی اللہ عنہ غصہ ہوئے، پھر بیان کیا اسی طرح جیسے اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۳۰۳ کا خلاصہ
یہ روایت بتاتی ہے کہ خادم یا لونڈی کے ساتھ سختی کو معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ وہ سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر کپڑا بیچ رہے تھے۔ ایک لونڈی باہر نکلی اور اس نے کسی شخص کو ایک بات کہی۔ اس شخص نے لونڈی کو طمانچہ مار دیا۔ سوید رضی اللہ عنہ کو یہ بات بہت ناگوار گزری اور انہوں نے وہی واقعہ بیان کیا جس میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے طمانچہ مارنے پر لونڈی کو آزاد کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس حدیث میں غلام کے حقوق، خادم کے ساتھ حسن سلوک، اور غصے پر قابو پانے کا سبق ملتا ہے۔ کسی کے کمزور ہونے کی وجہ سے اس پر ہاتھ اٹھانا درست رویہ نہیں۔ بات کے جواب میں بات ہو سکتی ہے، مگر طمانچہ ظلم بن جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کی بات سن کر فوراً ہاتھ اٹھانا غلط رویہ ہے۔
- خادم یا لونڈی کی عزت بھی محفوظ ہے۔
- دین میں کمزور کے حق کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
- غلط کام دیکھ کر ناراضی اور نصیحت دونوں درست ہیں۔
