صحیح مسلم حدیث ۴۳۱۰ - غلام کو مارنے سے روکنے کی روایت

غلام کو مارنے سے روکنے کی حدیث: روایت کے الفاظ میں فرق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۱۰

وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

‏‏‏‏ وہی ہے جو اوپر گزرا اس میں یہ نہیں ہے اللہ کی پناہ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ۔

صحیح مسلم حدیث ۴۳۱۰ کا خلاصہ

یہ حدیث سابقہ واقعے ہی کی ایک روایت ہے۔ اس میں ابو مسعود رضی اللہ عنہ، غلام کو مارنے، نبی صلى الله عليه وسلم کی تنبیہ، اور اللہ کی قدرت یاد دلانے کا اصل مضمون باقی ہے، مگر اس روایت میں غلام کے یہ الفاظ ذکر نہیں کہ اس نے اللہ کی پناہ یا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی پناہ مانگی۔ یہ بات حدیث پڑھنے والے کو ایک اہم انداز سکھاتی ہے کہ کبھی ایک ہی واقعہ مختلف سندوں سے آتا ہے اور بعض الفاظ ایک روایت میں ہوتے ہیں، بعض میں نہیں۔ مگر اصل سبق یہاں بھی یہی ہے کہ خادم پر ظلم سے بچا جائے، غلام کے حقوق کا خیال رکھا جائے، اور طاقت رکھتے ہوئے اللہ کی قدرت کو یاد رکھا جائے۔ اس حدیث میں زور اس بات پر ہے کہ مارنے کا عمل غلط تھا اور نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے روکنے والی نصیحت فرمائی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک ہی واقعہ مختلف الفاظ کے ساتھ روایت ہو سکتا ہے۔
  • اصل پیغام یہ ہے کہ غلام کو مارنے سے بچا جائے۔
  • طاقت کے وقت اللہ کی قدرت یاد رکھنی چاہیے۔
  • حدیث کے الفاظ میں فرق سمجھ کر مضمون کو درست طور پر لینا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں